اردوئے معلیٰ

حضور بندۂ عاجز گناہگار ہوں میں

ہیں آپ نور کا پیکر، سیہ کار ہوں میں

 

حضور ایک قدم میرے دل شکستہ میں

کہ دل گرفتہ و دلگیر و دلفگار ہوں میں

 

حضور دیکھیں تو پتھر بھی لعل بن جائیں

حضور نگہِ عنایت کا خواستگار ہوں میں

 

حضور جانِ جہاں، آپ جانِ عالم ہیں

بس ایک ادنیٰ سا جانباز، جاں نثار ہوں میں

 

جھلک بس ایک رُخِ زیبا و منور کی

میں ملتمس ہوں، میں گریاں ہوں، اشکبار ہوں میں

 

میں بے وقار تھا جب تک میں دُور تھا در سے

درِ حضور کی نسبت سے با وقار ہوں میں

 

ہے قلب و جاں میں سمایا ظفرؔ! غمِ حسنینؓ

میں اُن کا مرثیہ خواں، اُن کا سوگوار ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات