اردوئے معلیٰ

حضور عالی مقام ہر چند رب عالم کے اور اس کے رسول کے

حضور عالی مقام ہر چند رب عالم کے اور اس کے رسول کے
دشمنوں سے خائف نہیں ہوئے تھے
مگر یہی تھا ملال دل میں
بہت دنوں سے اُدھر سے وحی خدائے برتر رکی ہوئی تھی
مخالفوں کے ہجوم میں جو خدائے قدوس کا سہارا تھا
وہ بھی اب ٹوٹتا سا محسوس ہو رہا تھا
مخالفوں کو مناقشت کے لیے نئی بات مل گئی تھی
کوئی یہ کہتا تھا
"اب محمد کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے”
جو چند فقرے تھے جوڑ رکھے ،سنا چکا ہے
جنوں تھا جو اس کا چند روزہ ، اتر گیا ہے
یہ ذکر کرتا تھا جس خدا کا
ہمیں بھی جس کے عذاب سے یہ ڈرا رہا تھا
وہ خود اب اس کو بھلا چکا ہے
کوئی یہ کہتا تھا
"اب نبوت کا بھوت سر سے اتر گیا ہے’ (نعوذبااللہ)
یہ رسول خدا کے بارے میں اہل مکہ کا طرز گفتار تھا کچھ ایسا کہ
آسماں پر فرشتگانِ خدا بھی سنتے تو کانپ اٹھتے
مگر مشیت کا فیصلہ کوئی اور ہی تھا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ