حضور آپ کا گھر حاصل زمان ومکاں

حضور آپ کا گھر حاصل زمان ومکاں

جو آنکھ رکھتے ہیں اُن کو یہ نور نور لگے

نظر اٹھائیں تو موجِ نگاہ ساتھ نہ دے

نظر جھکائیں تو سینہ مثالِ طُور لگے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شعور ِ ہست میں ڈھل کر ، شعار ِ آگہی بن کر
تصویر جمال
ذکرِ خیر الانامؐ کرتے ہیں
ذکر ہم صبح و شام کرتے ہیں
محبت جاگزیں دل میں خُدا کی
جہاں نقشِ قدم واں پر جبیں ہو
ثنائے کبریا دِن رات لکھوں
جمال دید سے مسرُور رکھنا
’’رضائےؔ خستہ جوشِ بحرِ عصیاں سے نہ گھبرانا‘‘
’’گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر‘‘

اشتہارات