حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے

حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے

حضور ! وصل کی چاہت ستائے جاتی ہے

 

حضور ! جب غم ہستی سے میں بلکتا ہوں

حضور ! آپ کی الفت ہنسائے جاتی ہے

 

حضور ! اب تو مجھے آپ کی زیارت ہو

حضور ! دید کی حسرت تپائے جاتی ہے

 

حضور ! آپ کی زلفِ دوتا کا کیا کہنا

دل و دماغ کو جنت بنائے جاتی ہے

 

حضور ! اب توکرم کی نظر کریں مجھ پر

غموں کے بحر میں خلقت ڈُبائے جاتی ہے

 

حضور ! آپ کے چہرے کی وہ چمک! اللہ

شب سیاہ کی ظلمت مٹائے جاتی ہے

 

حضور ! لوگ بھلا کیا گرائیں حؔاتم کو

اسے تو آپ کی رحمت اٹھائے جاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
نبی کے برابر ہوا ہے نہ ہو گا
آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں
آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں
وہی محبوب، محبوبِ خُداؐ ہے
خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا
واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا