حضور پاک سے جب رشتہ استوار ہوا

حضور پاک سے جب رشتہ استوار ہوا

ہمارے دل کا یہ صحرا بھی لالہ زار ہوا

 

کرم حضور کی نسبت سے بے شمار ہوا

غلامیِ شہِ حق سے میں پُر وقار ہوا

 

نبی کے ذکر سے پائی شفا مرے دل نے

درودِ پاک مری روح کا قرار ہوا

 

یہ روشنی کے مناظر ہیں آپ کے دم سے

زمانہ آپ کے جلوؤں سے تاب دار ہوا

 

گُلوں میں کلیوں میں آقا کے جلوے دیکھے ہیں

چمن میں آپ کا دیدار بار بار ہوا

 

فدا کو نعت کی دولت درِ نبی سے ملی

تب اس مقام پہ فائز یہ خاک سار ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ