اردوئے معلیٰ

حضور پھر سے کریں صاحبِ مُراد مجھے

دیارِ رشکِ اِرم آ رہا ہے یاد مجھے

 

اُداس رُت کے سفر پر ہے رخشِ عمر، رواں

مگر وہ اسم کہ رکھتا ہے پھر بھی شاد مجھے

 

کرم ہُوا، تری مدحت کی صبحِ نو جاگی

نصیب نے تو بنایا تھا شب نژاد مجھے

 

بس ایک نعت ہی لکھی تھی، وہ بھی نا پختہ

بہ فیضِ اذن کہا سب نے زندہ باد مجھے

 

نوازنے پہ تو قادر ہیں وہ ورائے طلب

ملے ہیں ہاتھ ہی خواہش کے کم کشاد مجھے

 

سخی سے مانگا ہے جب بھی خیال مدحت کا

دیا ہے اُس نے ہمیشہ ہی مُستزاد مجھے

 

اگرچہ کارِ زیاں ہی رہا ہے نقدِ عمل

مگر ہے اُن کی شفاعت پہ اعتماد مجھے

 

بُلاوا آگیا اگلے ہی دن مدینے سے

سمجھ رہے تھے مگر لوگ ہجر زاد مجھے

 

نوازتے ہیں جو حرفوں کو خود ثنا کی پھبن

اُنہیں سے ملتی ہے مقصودؔ اِس پہ داد مجھے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات