حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش

آج قومی ترانے کے خالق اور معروف شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش ہے۔

حفیظ جالندھریپیدائش 14 جنوری 1900
جالندھر, پنجاب, برطانوی تسلط ہندوستان
وفات 21 دسمبر 1982 (عمر 82 سال)
لاہور, پنجاب, پاکستان
پیشہ اردو شاعر
قومیت پاکستانی
صِنف غزل
موضوعات حُب الوطنی, فلسفہ
ادبی تحریک تحریک پاکستان
نمایاں کام قومی ترانہ کا خالق
شاہنامہ اسلام
نمایاں اعزاز(ات) تمغۂ حسنِ کارکردگی
ہلال امتیاز
زوج(ین) زینت بیگم
خورشید بیگم
اہل و عیال شمش الدین (والد)
———-
حفیظ جالندھری کی شاعری ۔۔۔ یہ نصف صدی کا قصہ ہے
———-
ابو الاثرحفیظ جالندھری پاکستان کے قومی شاعر تھے۔ مگر ان کی مقبولیت بھارت میں کم نہیں تھی۔ تقسیم ملک سے قبل ہی وہ اپنی ادبی حیثیت منوا چکے تھے۔ ان کی دوسری شناخت ”شاہنامہ اسلام“ کے تناظر میں اسلامی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا شعری حوالہ ہے۔ انہوں نے ثقافتی اکتساب کے حوالوں سے اعلیٰ اور ارفعیٰ اور افضل ہستیوں کی ایسی شعری پیکر تراشی کی کہ ان کی تخلیق بر صغیر ہندو پاک میں اپنی نوعیت کی واحد تخلیق قرار پائی۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
———-
حفیظ جالندھری کی شاعری کی تیسری خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ” ابھی تو میں جوان ہوں“ کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیااور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔ غنائیہ کے سبب زبردست رچاؤ ہے۔ ان کے کچھ اشعار تو آج کے حالات کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ ان کی حیثیت ماورائے عصر ہے:
———-
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
———-
آخر کوئی صورت تو بنے خانہٴ دل کی
کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے
———-
مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا
مرے دیدہ و دل کو آباد رکھنا
ملیں گے تمہیں راہ میں بت کدے بھی
ذرا اپنے اللہ کو یاد رکھنا
———-
عشق نہ ہو تو واقعی موت نہ ہو تو خودکشی
یہ نہ کرے تو آدمی آخر کار کیا کرے
———-
حفیظ جالندھری سے میری چند ملاقاتیں اس وقت ہوئیں جب وہ 1976ء میں بھارت تشریف لائے۔ ان کا قیام دہلی میں اپنی منہ بولی بیٹی اور مشہور صحافی و ادیبہ منورما دیوان کے گھر پر تھا۔ منورما دیوان کے شوہر معروف ادیب دیوان بریندر ناتھ ظفر پیامی میرے دوستوں میں تھے۔ میں جب ان کے گھر پر حفیظ جالندھری صاحب سے ملنے کے لیے گیا تو انہوں نے ان سے میرا تعارف بڑے جان دار الفاظ میں کروایا۔ حفیظ صاحب بہت ہی پر تپاک انداز میں ملے اور دیر تک شعر و سخن کی باتیں کرتے رہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیبہ ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یومِ پیدائش
———-
اس کے بعد وہ ایک مشاعرے میں پٹنہ بھی تشریف لائے۔ ان کی آمد سے استفادہ کرتے ہوئے ریاستی گورنر جگن ناتھ کوشل نے، جو اردو شاعری کے بے حد قدر داں اور حفیظ صاحب کے شاعری کے مداح تھے، حفیظ کے اعزاز میں ایوانِ گورنرمیں ایک بڑے مشاعرے کا اہتمام کیا اور ان کے تعارف میں پر زور تقریر کی۔
پاکستان میں اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور حفیظ صاحب چند وجوہات سے اس حکومت سے بہت شاکی تھے۔ تقریر میں تو اس کا اظہا رنہیں کیا لیکن اشعار میں کافی ہدف ملامت بنایا۔ انہوں نے مشاعرے میں جو اشعار پڑھے ان میں سے چند مجھے یاد ہیں:
———-
ہم جس مقام پر ہیں وہاں سب مزے میں ہیں
سب کر رہے ہیں آہ و فغاں سب مزے میں ہیں
یہ بوم، چغد، زاغ و زغن، پیشہ ورنقیب
نوبت درِ مزارِ شہاں سب مزے میں ہیں
———-
شاد عظیم آباد ی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حفیظ جالندھری نے شاد کی مشہور غزل ”کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں“ کی زمین میں بھی ایک غزل سنائی تھی۔ جس کا مقطع تھا:
———-
حفیظ اہل ادب کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
———-
موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے حفیظ جالندھری صاحب سے ایک تفصیلی انٹر ویو کیا تھا۔ وہ بار بار حکومت وقت کو ہدف بناتے تھے او ر ہم عصر شعرا پر بھی زبردست تنقید کرتے تھے۔ خاص طور سے فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی ان کے نشانے پر تھے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ فیض اور ان کے کچھ ہم نشینوں نے اپنے قلم روس کے ہاتھوں بیچ دیے ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کے جی بی کے کچھ اہم اشخا ص نے ان سے بھی رابطہ کیا تھا اور بڑی رقم دینے کی پیش کش کی تھی، مگر انہوں نے اپنا قلم فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔
اس وقت حفیظ صاحب عمر کی اس منزل میں تھے کہ انہیں ذرا ذرا سی بات پر غصہ آجاتا تھا اگر میں کریدنے کے لیے کچھ سوال کرتا تھا تو وہ غصے میں آکر ہلکی باتیں بولنے لگتے تھے۔
حفیظ جالندھری بہر حال اردو کے شعری ادب میں قابل ذکر حیثیت کے مالک ہیں اور انہوں نے اردو شاعری کو جو کچھ دیا ہے اس کا اردو ادب میں نمایاں مقام ہے۔ ان کے بہت سے اشعار سہلِ ممتنع کی حیثیت رکھتے ہیں:
———-
دل ابھی تک جواں ہے پیارے
کس مصیبت میں جان ہے پیارے
تلخ کر دی ہے زندگی اس نے
کتنی میٹھی زبان ہے پیارے
———-
تمہیں نہ سن سکے اگر قصہٴ غم سنے گا کون
کس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے
———-
یوں میں نے جیتی الفت کی بازی
اک بار کھیلا سو بار ہارا
ناکامیِ عشق یا کامیابی
دونوں کا حاصل خانہ خرابی
ان کا بہانہ بر جستہ گوئی
اپنا تبسم حاضر جوابی
———-
ہر قدم جس کو نئی چال نہ چلنی آئے
وہ تو رہزن بھی نہیں راہنما کیا ہو گا
———-
آنے والے کسی طوفاں کا رونا رو کر
نا خدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا
———-
گزرے ہوئے زمانے کااب تذکرہ ہی کیا
اچھا گزر گیا بہت اچھا گزر گیا
———-
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں تو ڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے
———-
کہو تو راز حیات کہہ دوں حقیقت کائنات کہہ دوں
وہ بات کہہ دوں کہ پتھروں کے دلوں کو بھی آب آب کر دے
———-
حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900ءکو جالندھر میں پیدا ہوئے تھے اور 21دسمبر 1982کو لاہور میں انتقال فرمایا۔ انہوں نے اپنی تخلیقات میں چار جلدوں میں شاہنامہ اسلام، نغمہ زاد ‘ سوز و ساز، تلخابہ شریں اور چراغ سحر چھوڑے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ وفات
———-
ان کی شعری کائنات چھ دہائیوں پر محیط ہے اور ان کا یہ دعویٰ درست ہے:
———-
شعر وادب کی خدمت میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی باتیں نہیں
———-
باتیں حفیظ جالندھری کی
———-
حفیظ صاحب کسی کے رعب اور دبدبے میں ہرگز نہیں آتے تھے اور نہ ہی کسی پر چوٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتے۔ سب بڑے بڑوں کو ڈانٹ پلا دیتے۔ سیدضمیر جعفری اور عزیز ملک نے جو حفیظ کے بہت قریب رہے ہیں، مجھے کئی واقعات سنائے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی کو اپنے سے بڑا نہ سمجھتے۔ کسی کی قصیدہ گوئی اور خوشامد کرنا تو درکنار وہ کسی سے جھک کر ملنا بھی کسرِشان سمجھتے۔
چاہے کوئی بہت بڑا سرکاری افسر ہو یا کوئی وزیر، وہ اپنا مقام و مرتبہ اس سے اوپر ہی سمجھتے اور اسی کے مطابق گفتگو کرتے۔ البتہ چھوٹوں سے ان کا رویہ محبت اور شفقت والا ہوتا اور عام آدمی سے برابر کی سطح پر بات کرتے۔
کس میں جرأت تھی جو وزرا سے کرسیاں خالی کرواتا جب خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل تھے تو حیدرآباد میں کُل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت خواجہ ناظم الدین صاحب نے کرنی تھی۔ سیدضمیرجعفری راوی ہیں کہ مشاعرہ گاہ میں جانے سے قبل سبھی شاعر دوسرے ہال میں عشائیے کی دعوت میں جمع تھے۔ کھانے کے بعد سبز قہوے کا دور چلا۔ اتنے میں اعلان ہوا کہ گورنر جنرل تشریف لایا چاہتے ہیں۔ شعرائے کرام سے درخواست کی گئی کہ مشاعرہ گاہ میں تشریف لے جا کر اپنی نشستیں سنبھال لیں۔
جب شعراء جناب حفیظ جالندھری کی قیادت میں مشاعرہ ہال میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو کرسیاں سٹیج پر شعرائے کرام کے لیے رکھی گئی ہیں، ان پر وزرائے کرام اور دوسرے سربرآوردہ معززین براجمان ہیں۔ صدر مشاعرہ کی کرسی کے علاوہ اور کوئی خالی نہیں۔
شعراء تو سٹیج کے قریب پہنچ کر رُک گئے مگر حفیظ سیدھے اوپر جا پہنچے اور شعراء کی نشستوں پر قابض وزرائے کرام سے بآوازِبلند فرمایا ’’جناب! یہ کرسیاں خالی کرکے سٹیج سے نیچے تشریف لے جائیں۔‘‘ وہ پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ جب حفیظ صاحب نے اپنا مطالبہ دہرایا اور اس اثنا میں کچھ اور شاعر بھی حفیظ صاحب کی اقتدا میں سٹیج پر جا پہنچے تو ان حضرات کو اٹھتے ہی بنی۔ نیچے ہال میں بھی کوئی نشست خالی نہ تھی۔
خیر منتظمین نے دوڑ بھاگ کرکے پہلی قطار کے آگے ایک اور صف لگائی۔ ابھی یہ اکھاڑ پچھاڑ جاری ہی تھی کہ صدر مشاعرہ جناب خواجہ ناظم الدین تشریف لے آئے۔ اس اثنا میں شعرائے کرام اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے۔ سیدضمیرجعفری بتاتے ہیں کہ حفیظ صاحب نے سٹیج پر وزرائے کرام کو عالی جاہ یا سر جیسے الفاظ سے خطاب نہیں کیا اور نہ انھیں ہنستے مسکراتے ہوئے جھک کر سلام کہا۔ اگر وہ کرسیاں خالی نہ کرواتے تو منتظمین مشاعرہ میں سے کسی کی اتنی جرات نہ تھی جو وزیروں کو جا کر کہتا کہ کرسیاں خالی کردیں اور پھر اس پر فوری عمل بھی کرواتا۔
منتظمین میں ہمت اور سلیقہ ہوتا تو وہ پہلے ہی کسی کو سٹیج پر نہ بیٹھنے دیتے اور وزراء کے لیے نیچے پہلی صف میں نشستیں خالی رکھتے۔
کس حکیم نے مشاعرے میں آنے کا کہا تھا؟
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اصغر گونڈوی کا یومِ وفات
———-
ستمبر ۱۹۶۸ء میں چٹاگانگ میں ایک کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام ہوا۔ میں ان دنوں چٹاگانگ میں ہی تعینات تھا اور اس مشاعرے میں موجود تھا۔ سامعین کی پہلی صف میں ایک بڑا افسر اپنی بیگم کے ساتھ بیٹھا تھا۔ معلوم نہیں کیا مسئلہ تھا، وہ میاں بیوی آپس میں لڑجھگڑ رہے تھے۔
ان کی کھسر پُھسر مشاعرے میں خلل ڈال رہی تھی مگر وہاں کوئی ایسا نہ تھا جو ا نھیں یہ کہتا کہ براہِ کرم خاموشی اختیار کریں اور لوگوں کو مشاعرہ سننے دیں۔ بطور آخری شاعر حفیظ صاحب مائیک پر تشریف لائے اور اپنے مخصوص ترنم میں مشہور غزل کا مطلع سنایا:
———-
فردوس کی طہور بھی آخر شراب ہے
مجھ کو نہ لے چلو مری نیت خراب ہے
———-
حفیظ صاحب ابھی مطلع پڑھ ہی رہے تھے کہ ان میاں بیوی کی کھسر پُھسر پھر گونجی۔ حفیظ صاحب رک گئے اور ان صاحب کی طرف اشارہ کرکے کہا ’’جب مشاعرے میں بیٹھنے کی تمیز نہیں تو کیا تمھیں کسی حکیم نے کہا تھا کہ مشاعرے میں آؤ۔‘‘ یہ سُن کر اس کی بیگم تو فوراً اٹھ کر چلی گئی۔ چند لمحوں بعد وہ صاحب بھی اُٹھے اور سر جھکائے چپ چاپ رخصت ہوگئے۔
———-
منتخب کلام
———-
نعتِ رسولِ مقبول
———-
محمد مصطفیٰ محبوبِ داور، سرورِ عالم
وہ جس کے دم سے مسجودِ ملائک بن گیا آدم
کیا ساجد کو شیدا جس نے مسجودِ حقیقی پر
جھکایا عبد کو درگاہِ معبودِ حقیقی پر
دلائے حق پرستوں کو حقوقِ زندگی جس نے
کیا باطل کو غرقِ موجۂ شرمندگی جس نے
غلاموں کو سریرِ سلطنت پر جس نے بٹھلایا
یتیموں کے سروں‌ پر کردیا اقبال کا سایا
گداؤں کو شہنشاہی کے قابل کردیا جس نے
غرورِ نسل کا افسون باطل کردیا جس نے
وہ جس نے تخت اوندھے کر دئیے شاہانِ جابر کے
بڑھائے مرتبے دنیا میں ہر انسانِ صابر کے
دلایا جس نے حق انسان کو عالی تباری کا
شکستہ کردیا ٹھوکر سے بت سرمایہ داری کا
محمد مصطفیٰ مہرِ سپہرِ اَوجِ عرفانی
ملی جس کے سبب تاریک ذرّوں‌ کو درخشانی
وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں آسمانوں‌ میں‌
فرشتوں کی دعاؤں‌ میں، مؤذن کی اذانوں میں‌
وہ جس کے معجزے نے نظمِ ہستی کو سنوارا ہے
جو بے یاروں‌ کا یارا، بے سہاروں‌ کا سہارا ہے
وہ نورِ لَم یزل جو باعث تخلیقِ عالم ہے
خدا کے بعد جس کا اسمِ اعظم، اسمِ اعظم ہے
ثنا خواں جس کا قرآں ہے، ثنا میں جس کی قرآں میں
اسی پر میرا ایماں ہے، وہی ہے میرا ایماں میں
———-
جھگڑا دانے پانی کا ہے، دام و قفس کی بات نہیں
اپنے بس کی بات نہیں، صیّاد کے بس کی بات نہیں
جان سے پیارے یار ہمارے قیدِ وفا سے چھوٹ گئے
سارے رشتے ٹوٹ گئے، اک تارِ نفس کی بات نہیں
تیرا پھولوں کا بستر بھی راہ گزارِ سیل میں ہے
آقا، اب یہ بندے ہی کے خار و خس کی بات نہیں
دونوں ہجر میں رو دیتے ہیں، دونوں وصل کے طالب ہیں
حسن بھلا کیسے پہچانے، عشق ہوس کی بات نہیں
نوش ہے عنواں، نیش نتیجہ، ان شیریں افسانوں کا
تذکرہ ہے انسانوں کا یہ مور و مگس کی بات نہیں
کارِ مغاں، یہ قند کا شربت بیچنے والے کیا جانیں
تلخی و مستی بھی ہے غزل میں، خالی رس کی بات نہیں
تشکیل و تکمیلِ فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
———-
یہ بھی پڑھیں : مشہور و معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ پیدائش
———-
مِرے مذاقِ سُخن کو سُخن کی تاب نہیں
سُخن ہے نالۂ دل ، نالۂ رباب نہیں
اگر وہ فتنہ ، کوئی فتنۂ شباب نہیں
تو حشر میرے لئے وجہِ اضطراب نہیں
نہیں ثواب کی پابند بندگی میری
یہ اِک نشہ ہے جو آلودۂ شراب نہیں
مجھے ذلیل نہ کر عُذرِ لن ترانی سے
یہ اہلِ ذوق کی توہین ہے، جواب نہیں
جو کامیابِ محبّت ہے ، سامنے آئے
میں کامیاب نہیں، ہاں میں کامیاب نہیں
اُسی کی شرم ہے میری نِگاہ کا پردہ
وہ بے حِجاب سہی ، میں تو بے حِجاب نہیں
سُنا ہے میں نے بھی ذکرِ بہشت و حُور و قصُور
خُدا کا شُکر ہے نیّت مِری خراب نہیں
سُخنورانِ وطن سب ہیں اہلِ فضل و کمال
تو کیوں کہوں ، کہ میں ذرّہ ہُوں آفتاب نہیں
بیانِ درد کو ، دل چاہیے جنابِ حفیظ
فقط ، زبان یہاں ، قابلِ خِطاب نہیں
———-
وہ ہوئے پردہ نشیں انجمن آرا ہو کر
رہ گیا میں ہمہ تن چشمِ تمنّا ہوکر
حُسن نے عشق پہ حیرت کی نگاہیں ڈالیں
خود تماشا ہوئے ہم محوِ تماشا ہوکر
آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رُکا
ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہوکر
کوئی ہو دردِ محبت کا مداوا کردے
ملک الموت ہی آجائے مسیحا ہوکر
کچھ تعجب نہیں کعبے میں اگر جی نہ لگے
آئے ہیں ہم طرفِ دیروکلیسا ہوکر
حُسنِ ظاہر پہ نگاہیں نہ کبھی للچائیں
مجھ کو دنیا نظر آتی رہی دنیا ہو کر
———-
رنگ بدلا یار کا، وہ پیار کی باتیں گئیں
وہ ملاقاتیں گئیں، وہ چاندنی راتیں گئیں
پی تو لیتا ہوں مگر پینے کی وہ باتیں گئیں
وہ جوانی، وہ سیہ مستی، وہ برساتیں گئیں
اللہ اللہ کہہ کے بس اک آہ کرنا رہ گیا
وہ نمازیں، وہ دعائیں، وہ مناجاتیں گئیں
حضرتِ دل ہر نئی اُلفت سمجھ کر سوچ کر
اگلی باتوں پر نہ بھُولیں آپ وہ باتیں گئیں
راہ و رسمِ دوستی قائم تو ہے، لیکن حفیظ
ابتدائے شوق کی لمبی ملاقاتیں گئیں
———-
آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی
زندگی مانندِ شمعِ مُختصر ہونے لگی
رازِ الفت کھُل نہ جائے، بات رہ جائے مِری
بزمِ جاناں میں الہٰی چشم تر ہونے لگی
اب شکیبِ دل کہاں، حسرت ہی حسرت رہ گئی
زندگی اِک خواب کی صُورت بسر ہونے لگی
یہ طِلِسمِ حُسن ہے، یا کہ مآلِ عشق ہے
اپنی ناکامی ہی اپنی راہ بر ہونے لگی
سُن رہا ہوں آرہے ہیں وہ سرِ بالین آج
میری آہِ نارسا بھی، با اثرہونے لگی
اُن سے وابستہ اُمیدیں جو بھی تھیں، وہ مِٹ گئیں
اب طبیعت، آپ اپنی چارہ گر ہونے لگی
وہ تبسّم تھا، کہ برقِ حُسن کا اعجاز تھا
کائناتِ جان و دل زیر و زبر ہونے لگی
دل کی دھڑکن بڑھ گئی آنکھوں میں آنسو آ گئے
غالباً میری طرف اُن کی نظر ہونے گی
جب چلا مُشتاق اپنا کارواں سُوئے عدم
یاس ہم آغوش ہو کر ہم سفر ہونے لگی
———-
ابھی تو میں جوان ہوں
ہوا بھی خوش گوار ہے ، گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے ، بہارِ پُر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا ، اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا اٹھا سبُو، سبُو اٹھا
سبُو اٹھا، پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے اِدھر
چمن کی سمت کر نظر ،سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں
وہ اک ہجومِ مے کشاں ،ہے سوئے مے کدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بد گماں ، سمجھ نہ مجھ کو ناتواں
خیالِ زہد ابھی کہاں ابھی تو میں جوان ہوں
عبادتوں کا ذکر ہے ،نجات کی بھی فکر ہے
جنون ہے ثواب کا ،خیال ہے عذاب کا
مگر سنو تو شیخ جی ، عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی ، الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسین جلوہ ریز ہوں ،ادائیں فتنہ خیز ہوں
ہوائیں عطر بیز ہوں ، تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
نگار ہائے فتنہ گر ،کوئی اِدھر کوئی اُدھر
ابھارتے ہوں عیش پر ،تو کیا کرے کوئی بشر
چلو جی قصّہ مختصر ،تمھارا نقطۂ نظر
درست ہے تو ہو مگر، ابھی تو میں جوان ہوں
نہ غم کشود و بست کا،بلند کا نہ پست کا
نہ بود کا نہ ہست کا ،نہ وعدۂ الست کا
امید اور یاس گم ، حواس گم، قیاس گم
نظر کے آس پاس گم ،ہمہ بجز گلاس گم
نہ مے میں کچھ کمی رہے ،قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے ،یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطربا ، طرَب فزا، الَم رُبا
اثر صدائے ساز کا ، جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا ، نہ ہاتھ روک ساقیا
پلائے جا پلائے جا ، ابھی تو میں جوان ہوں
یہ گشت کوہسار کی ، یہ سیر جوئبار کی
یہ بلبلوں کے چہچہے ، یہ گل رخوں کے قہقہے
کسی سے میل ہو گیا ، تو رنج و فکر کھو گیا
کبھی جو بخت سو گیا ، یہ ہنس گیا وہ رو گیا
یہ عشق کی کہانیاں ،یہ رس بھری جوانیاں
اِدھر سے مہربانیاں ،اُدھر سے لن ترانیاں
یہ آسمان یہ زمیں ، نظارہ ہائے دل نشیں
انھیں حیات آفریں ، بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
ہے موت اس قدر قریں ، مجھے نہ آئے گا یقیں
نہیں نہیں ابھی نہیں ، ابھی تو میں جوان ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ