اردوئے معلیٰ

حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے

جو یادِ مصطفی سے دل کو بہلایا نہیں کرتے

 

زباں پر شکوۂ رنج و الم لایا نہیں کرتے

نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

 

یہ دربار محمد ہے یہاں اپنوں کا کیا کہنا

یہاں سے ہاتھ خالی غیر بھی جایا نہیں کرتے

 

محمد مصطفی کے باغ کے سب پھُول ایسے ہیں

جو بِن پانی کے تر رہتے ہیں مرجھایا نہیں کرتے

 

مدینے جو بھی جاتا ہے وہ جھولی بھر کے لاتا ہے

سخی داتا ہیں خالی ہاتھ لوٹایا نہیں کرتے

 

ارے او ناسمجھ قربان ہو جا ان کے روضے پر

یہ لمحے زندگی میں بار بار آیا نہیں کرتے

 

یہ دربار محمد ہے یہاں ملتا ہے بے مانگے

ارے ناداں یہاں دامن کو پھیلایا نہیں کرتے

 

جو ان کے دامن رحمت سے وابستہ ہے اے حامدؔ

کسی کے سامنے وہ ہاتھ پھیلایا نہیں کرتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات