اردوئے معلیٰ

حقیقت کُھل گئی نوری سفر میں

حقیقت کُھل گئی نوری سفر میں

کہ ہے سدرہ تمہاری رہگذر میں

 

یہ کس کا نقشِ پا سایا فگن ہے

ہوئی یہ گفتگو شمس و قمر میں

 

فرشتہ راستے میں رُک کے بولا

نہیں اب قوتِ پرواز ، پَر میں

 

ترا نام عرشِ اعظم پر لکھا ہے

تری مدحت کتابِ معتبر میں

 

بشر لکھنا بھی چاہے ، لکھ نہ پائے

ہیں اتنی خوبیاں خیر البشر میں

 

محمد کی محبت روحِ ایماں

یہی ہے حدِ فاصل ، خیر و شر میں

 

عطائے خاص بن کر مسکرائی

شبیہہِ گنبدِ خضریٰ نظر میں

 

درودِ پاک کی برکت سے اختر

بہت آسانیاں ہیں اب سفر میں

 

یہ توفیقِ ثنا شاہد ہے اخترؔ

کہ میں ہوں جانِ رحمت کی نظر میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ