’’جاگ اُٹھّی سوئی قسمت اور چمک اُٹھّا نصیب‘‘

 

’’جاگ اُٹھّی سوئی قسمت اور چمک اُٹھّا نصیب‘‘

ہیں وہی لاریب! جن و انس کے حاذِق طبیب

پل میں رنج و غم مٹا، سب شاہ کے بیمار کا

’’جب تصور میں سمایا روئے انور یار کا‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا صاحب الجمال و یا سید البشر
ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام
نگاہِ ملتفت آقاؐ مرے مجھ پر سدا رکھنا
دل و جاں میں قرار آپؐ سے ہے
وہ خوش قسمت ہیں جن کی آپؐ کے در تک رسائی ہے
درِسرکارؐ کا جو بھی گدا ہو
چلو شہر نبیؐ کی سمت سب عشاق چلتے ہیں
مرے آقاؐ حبیب کِبریا ہیں
’’ہے یہ اُمید رضاؔ کو تری رحمت سے شہا‘‘
’’تمہارے حکم کا باندھا ہوا سورج پھرے اُلٹا‘‘