آقاﷺ جو نہیں تھے تو امانت بھی نہیں تھی

 

آقا ﷺ جو نہیں تھے تو امانت بھی نہیں تھی

آدمؑ بھی نہ تھے اُن کی خلافت بھی نہیں تھی

 

یہ سلسلۂ رُشد و ہدایت بھی نہیں تھا

دنیا میں یہ تنویرِ رسالت بھی نہیں تھی

 

کعبہ تھا مگر اُس پہ بھی قبضہ تھا بتوں کا

اللہ کی اُس گھر میں عبادت بھی نہیں تھی

 

انسان کے اوصاف کا چرچا بھی نہیں تھا

دنیا میں یہ کردار کی عظمت بھی نہیں تھی

 

قرآں بھی نہ اُترا تھا زمیں والوں پہ پہلے

انسان کے افکار میں ثروت بھی نہیں تھی

 

دنیا میں کوئی خیر کے آثار نہیں تھے

خیرالاُمم ایسی کوئی اُمت بھی نہیں تھی

 

مقصد کی بلندی کا تصور بھی نہیں تھا

انسان میں تشویقِ شہادت بھی نہیں تھی

 

توحید پرستی کا نمونہ بھی نہیں تھا

اخلاصِ عمل کی کوئی قیمت بھی نہیں تھی

 

انسان کو مدحت کا قرینہ نہ ملا تھا!

احسنؔ مجھے حاصل یہ سعادت بھی نہیں تھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہﷺ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے
گدا کو دید کا شربت پلا دو یا رسول اللہﷺ
جو بھی فدائی شہِ کون ومکاں ہوا