اُمت کے لیے اُسوۂ کامل کا نمونہ

اُمت کے لیے اُسوۂ کامل کا نمونہ

ہستی میں محمد ﷺ کی ہے منزل کا نمونہ

 

ذاتِ شہہِ ﷺ والا سے حرارت ہے لہو کی

ٹھہرائیں دو عالم کو اگر دل کا نمونہ

 

حالات کی ہر ڈوبتی کشتی کے لیے ہے

کونین کے سرور ﷺ ہی میں ساحل کا نمونہ

 

ذُرِّیَتِ آدم تھی بڑی ظالم و جاہل

وہ ذات ﷺ ہوئی جوہرِ قابل کا نمونہ

 

جس روز سے پائی ہے حضوری کی سعادت

ویرانیِ دل ہو گئی محفل کا نمونہ

 

حق اُن ﷺ کے نقوشِ قدمِ پاک سے پھیلا

دنیا کا ہر اِک نقش تھا باطل کا نمونہ

 

ہاں منتظرِ دستِ سخاوت ہے یہ احسنؔ

سرکارصلی اللہ علیک وسلم! سراپا ہے یہ سائل کا نمونہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے
قرآنِ مقدس میں فرمودۂ رب دیکھا
نگاہِ لطفِ رب میری طرف ہے
ذرۂ ناچیز کیا یہ وہ شہِ عالم کہاں
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
قطرہ مانگے جو کوئی تو اُسے دریا دے دے
سیرت وکردار دیتے ہیں شہادت آپ کی