اے کاش! عزیز اِتنی صداقت مجھے مل جائے

اے کاش! عزیز اِتنی صداقت مجھے مل جائے

دنیا میں برتنے کو وہ سیرت مجھے مل جائے

 

پائی جو بلالِ حَبَشِیْؓ نے مرے آقا ﷺ

اُلفت کے حوالے سے وہ شہرت مجھے مل جائے

 

اصحابِؓ رسولِ عربی ﷺ کو جو ملا تھا

اللہ وہی شوقِ شہادت مجھے مل جائے

 

عاصی ہوں پہ ارمان بڑا ہے مرے آقا ﷺ

ہو اذنِ حضوری تو سعادت مجھے مل جائے

 

جو آتشِ دوزخ کو بجھانے کا سبب ہو

اے کاش وہی اشکِ ندامت مجھے مل جائے

 

ایماں وہ میسر ہو جو صدیقؓ نے پایا

تقوے میں ابو ذرؓ کی شباہت مجھے مل جائے

 

جو حشر میں آقا ﷺ کی غلامی کی سند ہو

یارب کوئی ایسی ہی علامت مجھے مل جائے

 

اے کاش عزیزؔ اب مرے آقا ﷺ کے کرم سے

حسانؓؔ کا سا لہجۂ مدحت مجھے مل جائے!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کاش وہ چہرہ میری آنکھ نے دیکھا ہوتا
رِیاضِ جناں ہے نثارِ مدینہ​
عیسوی سال کا جب پانچ سو ستّر اُترا
یہ تیری نعت کا منظر کہاں کہاں چمکا
رُخ مہر ہے یا مہ لقا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​
نغمہ طرازِ نعت رہوں میں تھکے بغیر
نے برسرِ افلاک نہ بر روئے زمیں ہے
ثنا لکھیں تری کب خود کو اس قابل سمجھتے ہیں
جب تک نہ بڑھ کے خود ہی مشیت ہو دستگیر
ایک سے ایک سخن ور ہے مگر کس میں مجال