اے کاش کبھی چاک ہوں رسموں کی قبائیں

اے کاش کبھی چاک ہوں رسموں کی قبائیں

ہم اُسوۂ آقا ﷺ کے نمونے بھی دکھائیں

 

ہر لحظہ وہی نقشِ قدم پیشِ نظر ہو

ہم جانبِ طیبہ رہِ کردار سے جائیں

 

تشہیر کے جذبوں کو دبا کر بھی کبھی ہم

اخلاصِ عمل کی کوئی تصویر بنائیں

 

اے کاش کبھی طارقِ جانباز کے مانند

ہم مصلحتِ وقت کو خاطر میں نہ لائیں

 

ہم جبر کے دستور زمانے سے مٹا کر

قرآن کی تعلیم کا اعجاز دکھائیں

 

اے کاش عزیزؔ ان ﷺ کی محبت کے اثر سے

مہکیں مرے کردار کی خوشبو سے فضائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے
قرآنِ مقدس میں فرمودۂ رب دیکھا
نگاہِ لطفِ رب میری طرف ہے
ذرۂ ناچیز کیا یہ وہ شہِ عالم کہاں
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
قطرہ مانگے جو کوئی تو اُسے دریا دے دے
سیرت وکردار دیتے ہیں شہادت آپ کی