جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

پھیلی ہے قلب و روح میں مدحت کی روشنی

 

اللہ نے تو خود ہی کیا ہے یہ اہتمام

بخشی ہے اُن ﷺ کے ذکر کو رفعت کی روشنی

 

ذکرِ رسولِ پاک ﷺ سے پہنچی ہے قلب تک

وہ سلسبیلِ نور وہ جنت کی روشنی

 

معیارِ حسنِ خُلق وہی شخص بن گیا

جس کو ملی ہے اُن ﷺ کی اطاعت کی روشنی

 

یثرب کو بھی مدینے کا اعزاز مل گیا

خیرالبشر ﷺ سے پائی جو ہجرت کی روشنی

 

ذوقِ عمل اُبھر کے بنے آفتابِ حق!

ہر سمت پھیل جائے صداقت کی روشنی!

 

بس اک نگاہِ لطف و کرم چاہیے حضور ﷺ

اُمت کو ہو نصیب شرافت کی روشنی

 

صدقے میں اُن ﷺ کی مدح نگاری کے پا سکوں

اے کاش! روزِ حشر شفاعت کی روشنی

 

سچائی کے چراغوں سے روشن ہو کل جہاں

یوں ہو نصیب شمعِ ہدایت کی روشنی

 

پھیلے شمیم، خُلقِ رسالت پناہ ﷺ کی

اُمت کو ہو نصیب اطاعت کی روشنی

 

کشکول بن گیا دلِ فرقت زدہ عزیزؔ!

دیکھی ہے جب سے اُن کی سخاوت کی روشنی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب کبھی تذکرۂ شہرِ پیمبر لکھنا
تاج کی ہے طلب اور نہ زر چاہئے
ہر مرض کی دوا وردِ صلِ علیٰ مدحتِ مصطفیٰ ﷺ
بولنا سیکھا تو یہ بات کہی
لبوں سے اسمِ محمدﷺ جدا نہیں ہوگا
جوطلبگار مدینے میں چلا آتا ہے
عالم تمام عکس جمال محمدؐ است
جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہوا ہے
حضور کی جستجو کریں گے
عطا ہوئے ہیں رفیع جذبے