دشت ہے کل جہاں سائباں آپ صلی اللہ علیک وسلم ہیں

دشت ہے کل جہاں سائباں آپ ﷺ ہیں

یا نبی ﷺ رحمتِ بیکراں آپ ہیں

 

قریۂ جاں منور ہوا آپ ﷺ سے

تیرگی میں مرے پاسباں آپ ﷺ ہیں

 

بے صدا عرصۂ آگہی کے لیے

حق و صدق وفا کی اَذاں آپ ﷺ ہیں

 

آپ ہیں واقفِ سرِّ توحید بھی

شاہدِ لمحۂ کن فکاں آپ ہیں

 

آپ ہیں طورِ عرفانِ انسانیت

منبعِ علم بھی بے گماں آپ ﷺ ہیں

 

ظلم کی دھوپ میں رحمتِ بحر و بر

ہیں تو انسانیت کی اماں آپ ہیں

 

سخت مشکل میں ہے اب عزیزؔ آپ ﷺ کا

یا نبیؐ ﷺ! والیِ بے کساں آپ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر چند مدح اس کی سب اہلِ ہنر کریں
کب علم میں اتنی وسعت ہی
ہمہ والعصر اور والدّھر ہے عظمت محمدؐ کی
غم سبھی راحت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں
تری نگاہ سے ذرے بھی مہر و ماہ بنے
اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا
جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا
بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو
شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق