دنیا کی تمنا ہے نہ جنت ہے نظر میں

دنیا کی تمنا ہے نہ جنت ہے نظر میں

سب کچھ ہے اگرآپ ﷺ کی سیرت ہے نظر میں

 

اب دھیان فقط آپ ﷺ! کی چوکھٹ پہ لگا ہے

محرومِ حضوری ہوں، اجازت ہے نظر میں

 

کشکول لیے پھرتا ہوں خالی مرے آقا ﷺ!

ہاں آپ ﷺ کا اندازِ سخاوت ہے نظر میں

 

اب کوئی بھی معیار نظر میں نہیں جچتا

تقوے میں ابو ذرؓ کی شباہت ہے نظر میں

 

حالات کڑے ہیں، پہ بصیرت وہ نہیں ہے

اصحابِؓ نبی ﷺ کی جو بصیرت ہے نظر میں

 

واعظ کو بھروسہ ہے جو اعمال پر اپنے

عاصی ہوں! محمد ﷺ کی شفاعت ہے نظر میں

 

صد شکر عزیزؔ اب مجھے توفیق ملی ہے

اِک صاحبِ اوصاف ﷺ کی مدحت ہے نظر میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہم کو دامن اُن ﷺ کو گنجِ شائگاں بخشا گیا
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
اِک شخص میں ہر وصف تھا
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی
بساطِ ارض ہے تم سے یہ آسماں تم سے
کل رات مجھے خواب اک ایسا نظر آیا