لکھوں اِس طور سے اُن ﷺ کا قصیدہ

 

لکھوں اِس طور سے اُن ﷺ کا قصیدہ

بنا لوں میں شُنیدہ کو بھی دیدہ

 

عمل ہو اُن ﷺ کی سیرت کے مطابق

ہے جن ﷺ کو چاہنا میرا عقیدہ

 

اُنہی ﷺ کا نام مثلِ مہر چمکا

ہوا روشن دو عالم کا جریدہ

 

عمل سے لکھ سکوں اے کاش میں بھی

صحابہؓ کی طرح اُن کا قصیدہ

 

عزیزؔ احسن یقینا بعدِ رَبّ ہیں

میرے آقا ﷺ ہی سب سے برگزیدہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدینہ منبعِ خوشبو ہے شہرِ شاہِ خوباں ہے
مصروفِ حمدِ باری و مدحِ حضورؐ تھا​
واہ شاہِ دوسرا رتبہ شبِ اسری ترا
یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا
تمھارے نور کا صدقہ ملا ہے ان ستاروں کو
مرا پیمبر عظیم تر ہے
ادا اس طرح سے حق ہو شہہِ بطحا ﷺ کی اُلفت کا
ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمدؐ ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
فرشتے حضوری میں پہنچا رہے ہیں