مدح کب تک شہِ کونین صلی اللہ علیک وسلم! شنیدہ لکھوں

 

مدح کب تک شہِ کونین ﷺ! شنیدہ لکھوں

کاش وہ وقت بھی آئے کہ میں دیدہ لکھوں

 

دولتِ درد عطا ہو مرے آقا ﷺ! مجھ کو

آپ (ﷺ) کی نعت میں با قلبِ تپیدہ لکھوں

 

کاش وہ چشمِ کرم میری طرف بھی ہو جائے!

میں بھی حسَّانؓ کے لہجے میں قصیدہ لکھوں

 

چادرِ زیست پہ عصیاں کے اگر داغ نہ ہوں

یا نبی ﷺ! آپ کے اوصافِ حمیدہ لکھوں

 

فہمِ قرآن کی توفیق میسر ہو اگر

میں بھی سرکارِ دو عالم ﷺ کا قصیدہ لکھوں

 

نعت لکھنا ہی وظیفہ مرا بن جائے عزیزؔ

جب لکھوں لذَّتِ دیدار چشیدہ لکھوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے
قرآنِ مقدس میں فرمودۂ رب دیکھا
نگاہِ لطفِ رب میری طرف ہے
ذرۂ ناچیز کیا یہ وہ شہِ عالم کہاں
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
قطرہ مانگے جو کوئی تو اُسے دریا دے دے
سیرت وکردار دیتے ہیں شہادت آپ کی