نہ عزّ و جاہ نہ تاجِ شہی نظر میں رہے

نہ عزّ و جاہ نہ تاجِ شہی نظر میں رہے

حضور ﷺ آپ کی سیرت مری نظر میں رہے

 

کبھی تو میں بھی بصد ناز کہہ سکوں آقا ﷺ

کہ صبح و شام فقط آپ ہی نظر میں رہے

 

بہت قریب ہے منزل سے کارواں اپنا

بس ایک شرط ہے، خُلقِ نبی ﷺ نظر میں رہے!

 

فلاح، راہِ یقیں کے سوا کہیں بھی نہیں

قدم قدم پہ وہی روشنی نظر میں رہے

 

ہو صبحِ فتح، تو مکہ ہی دھیان میں آئے

جو ابتلا ہو تو طائف مری نظر میں رہے!

 

ہو فیصلہ، تو وہی عدل ہو نگاہوں میں

ہو مشورہ، تو بصیرت وہی نظر میں رہے

 

عمل سے عشقِ نبی ﷺ کا ثبوت مل جائے

ہو اِدّعا تو وہی خُلق بھی نظر میں رہے!

 

خیال و فکر کی تطہیر کچھ محال نہیں

جو اُن کی ذات ﷺ سے وابستگی نظر میں رہے!

 

ہر ایک سانس عبادت میں ہو شمار عزیزؔ

اگر حضور ﷺ کی سیرت تری نظر میں رہے!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہﷺ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے
گدا کو دید کا شربت پلا دو یا رسول اللہﷺ
جو بھی فدائی شہِ کون ومکاں ہوا