ہم مدحتِ رسولِ گرامی ﷺ اگر کریں

ہم مدحتِ رسولِ گرامی ﷺ اگر کریں

لازم ہے پہلے اپنی طرف بھی نظر کریں

 

جتنا بلند دعویٔ اُلفت ہے کاش ہم

اُتنی ہی پیرویٔ شہِ بحر و بر کریں

 

سیرت کے نقش سامنے رکھیں قدم قدم

ہر لمحۂ حیات کو یوں معتبر کریں

 

اُبھرے انہیں کے اُسوۂ کامل کا آفتاب

پیدا شبِ حیات سے ایسی سحر کریں

 

سرشار ہوں جو دل شہِ والا ﷺ کے عشق سے

ہم برف کی چٹانوں سے پیدا شرر کریں

 

طائف ہمارے پیش نظر ہو تو ہر نفس

مشکل میں ان کے صبر کو ہم راہبر کریں

 

احکامِ دیں کی جوہری قوت عمل میں ہو

نعتیں لکھیں تو لفظوں کو شمس و قمر کریں!

 

جذبوں کا سچ، عمل کو جِلا بخشتا رہے

احسنؔ صداقتوں کو ہی اپنا ہنر کریں!

 

۱۹۸۳ء کے سالانہ مشاعرے میں دارالعلوم امجدیہ میں پڑھی گئی۔
مصرعہ طرح تھا:آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں (اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے
قرآنِ مقدس میں فرمودۂ رب دیکھا
نگاہِ لطفِ رب میری طرف ہے
ذرۂ ناچیز کیا یہ وہ شہِ عالم کہاں
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
قطرہ مانگے جو کوئی تو اُسے دریا دے دے
سیرت وکردار دیتے ہیں شہادت آپ کی