ہم کو دامن اُن ﷺ کو گنجِ شائگاں بخشا گیا

 

ہم کو دامن اُن ﷺ کو گنجِ شائگاں بخشا گیا

یوں فقیروں کو وہ دستِ مہرباں بخشا گیا

 

آدمی کو اُن ﷺ کے صدقے نعمتِ عظمیٰ ملی

دینِ برحق کا شعورِ جاوداں بخشا گیا

 

جس نے اُن ﷺ کی پیروی کا ہر قدم رکھا خیال

وہ تو محشر میں بِلا ریب و گماں بخشا گیا

 

چلچلاتی دھوپ، دشتِ بے کراں، انساں فگار

ایسے لمحے رحمتوں کا سائباں بخشا گیا

 

فکرِ انساں کو عطا کرنی تھی وسعت اس لیے

صورتِ قرآن، علم بے کراں بخشا گیا

 

روضۂ اطہر کی صورت اے زمیں والو تمہیں

اِک ریاضِ نور، صد رشکِ جناں بخشا گیا

 

مدحتوں کے پھول کھل جاتے ہیں لفظوں میں عزیزؔ

اُلفتِ آقا ﷺ کے صدقے، گلستاں بخشا گیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر کا دھوکہ ہے نام و نمود لا موجود
تری ثنا سے مرا عصرِ حال تابندہ
خوش ہوں کہ پسِ مرگ یہ پہچان رہے گی
رسولِ ہاشمی کا جو بھی شیدا ہو نہیں سکتا
نبی سے محبت ہے ایمان کامل
بنامِ مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں
اے شہ انبیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
نیچی نظریں کئے دربار میں ہم آتے ہیں
ان کی ذاتِ اقدس ہی، رحمتِ مجسم ہے
دنیا کے ٹھکرائے لوگ