اردوئے معلیٰ

Search

دم میں اپنے بھی جب تلک دم ہے

شکر جتنا کریں ترا کم ہے

 

ہر مرض کا علاج ذکر ترا

تیرا ہر نام اسمِ اعظم ہے

 

تیری خواہش ہے یہ ہست و بود

تیری منشا دوامِ عالم ہے

 

پھر یہ نبضوں میں کس لئے تیزی

کیوں نظام جہاں یہ برہم ہے

 

میرے مالک بہار آجائے

میرا موسم خزاں کا موسم ہے

 

نوحہ خواں کوئی ہے جو مجھ میں ہے

کون میرا شریک ماتم ہے

 

ذکر سے اس کے کشتِ جاں ہے گداز

نم ہے مٹی میں چاک میں دم ہے

 

ہر خوشی دی ہے یاد نے اس کی

اس کی سوچوں سے دل میں سرگم ہے

 

اس سے باتیں ہیں روز و شب خسؔرو

ایک وہ ہی تو میرا محِرم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ