اردوئے معلیٰ

حمد و ثنا سے بھی کہیں اعلیٰ ہے تیری ذات

انسان کیا بیان کرے تیری ُکل صفات

 

دل ہیژدہ ہزار زمانوں کو کیا کہے؟

اک لفظ ُکن سے وضع کیے تو نے شش جہات

 

ہر برگِ ُگل میں تو نے سموئی الہٰیّت

انسان کیسے سمجھے بھلا رنگِ درسیات

 

تیرا عطا کیا ہوا ہر دُکھ بھی اے کریم

واللہ اہلِ عشق کو ہے جانِ محسنات

 

قطروں میں بحر نور، مسلسل ہے موجزن

ذرّوں کے قلب مشعلِ روحِ تجلیات

 

ذی روح رزق پاتے ہیں سینے میں سنگ کے

خود مشکلات ہیں ہمہ تن حلِ مشکلات

 

وہ بحر و بر ہوں، آتش و ُگل ہوں کہ برق و باد

بخشی سبھی کو تو نے عبادت کی کیفیات

 

درِ یتیم عرش کے مہمان ہو گئے

ناممکنات بھی ہیں تجھ عینِ ممکنات

 

حق بندگی کا کیسے ادا ہو صبیحؔ سے

انساں سے ماورا ہے ترا حسنِ التفات

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات