حویلی والوں کی حاکمیت و شاہ زوری کا مسئلہ ہے

حویلی والوں کی حاکمیت و شاہ زوری کا مسئلہ ہے

سبھی ملازم ڈرے ہوئے ہیں سنا ہے چوری کا مسئلہ ہے

 

ہر اک ڈرامے میں عشق رسوا و خوار ہوتا دکھا رہے ہیں

ہر اک کہانی میں آج کل صرف کالی گوری کا مسئلہ ہے

 

میں اپنی آنکھوں کو بند رکھوں تو پھر اثاثہ بچا سکوں گی

یہ خواب میرے لئے تو جیسے کھلی تجوری کا مسئلہ ہے

 

ابھی رہائی کی خوش امیدی پہ بھوک غالب سی لگ رہی ہے

ابھی پرندے کو صرف اوندھی پڑی کٹوری کا مسئلہ ہے

 

میں سب سے کومل چھپا رہی ہوں کہ اب محبت نہیں رہی ہے

مگر کلائی پہ باندھی منت کی سرخ ڈوری کا مسئلہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

راز در پردۂ دستار و قبا جانتی ہے
پتھر ہی رہو، شیشہ نہ بنو
مٹی سنوار کر مری، دیپک میں ڈھال دے
مانا کہ عرضِ حال کے قائل نہیں تھے ہم
وحشتوں کی سبیل ہوتے تھے
تم مری زندگی میں بھی نہیں ہو
ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب ، لگی شرط
ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں
چہروں کے لئے آئینے قربان کئے ہیں
ہجر کے کرب سے ، یوں لَف سے ، نکل آئیں گے