اردوئے معلیٰ

Search

حَبس بڑھنے لگا ‘ سانس گُھٹنے لگی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

اب تو ہم پر ہو لُطف و عطا الٰہی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

چار سُو جیسے ظلمات کا دَور ہے ‘ کُفر کا زور ہے

ایسے میں ہیں فقَط آپ ہی روشنی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

ہے پریشان خَلقِ خدا آج کل ‘ کوئی اِس کا بھی حل

زندگی تلخ سے تلخ تر ہو گئی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

اُمّتِ مُسلِمہ آج بیمار ہے ‘ خاصی لاچار ہے

کیجیے آپ ہی کوئی چارہ گَری ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

ہم ہیں راہِ ہِدایت سے بھٹکے ہُوئے ‘ خود سے اَٹکے ہُوئے

چاہیے ہے ہمیں آپ کی رہ بَری ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

کالی کملی میں اپنی چُھپا لیں ہمیں ‘ حوصلہ دیں ہمیں

ہم گُنہ گار ہیں آپ کے اُمّتی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

ہم جو زندہ ہیں تَو آپ کا ہے کرم ‘ سیّد المحترَم

آپ ہی کی بَدولت مِلی زندگی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

آپ ہی سے ہے بَس لَو لگائی ہُوئی ‘ سب بنائی ہُوئی

آپ ہی تَو ہیں اِک شمّع اُمّید کی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

کون ہے صاحِبِ ذی شعُور آپ سا ‘ دَہر میں دُوسرا

پھر عطا ہو ہمیں ذات کی آگَہی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

کب تلَک ہم رہیں آپ کے دَر سے دُور ‘ اِس طرح بے حضُور

اب تَو ہم کو مِلے مُژدۂ حاضِری ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

میرے وِردِ زباں آپ کی نعت ہو ‘ آپ کی بات ہو

میرے ہونٹوں پہ جاری رہے ہر گھڑی ‘ یا نبی ‘ یا نبی

 

آپ کا ایک ادنٰی سا شاعِر ہُوں مَیں ‘ ایک ساحِرؔ ہُوں مَیں

ورنہ کیا شاعِری، اَور کیا ساحِری ‘ یا نبی ‘ یا نبی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ