حُسنِ سراپائے رسولِ محترم

حُسنِ سراپائے رسولِ محترم
عاشق ِ رسول ِ مقبول حضرت امام محمد شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کی مدحیہ شاعری کے کیاکہنے۔ جب آپ فالج کے مرض کا شکار ہوئے تو آپ نے نبیء رحمت کی بارگاہ میں اپنی پریشانی سےمتعلق استغاثہ پیش کیاتھا۔یہ عالم ِ رویا کی بات ہے ۔ روایت کیاجاتاہے کہ حضور علیہ الصلواۃ و والسلام یہ مدحیہ شاعری سن کر جھوم اُٹھے تھے اور اپنا بردہ شریف{ یعنی چادر ِ مبارک } بھی خوش ہو ک رامام محمد شرف الدین بوصیری کوبطورانعام عطافرمادیاتھا،اسی مناسبت سے اسے قصیدہ ء بردہ شریف کانام ملا۔
یہ گیارہویں اور بارہویں صدی کی بات ہے ۔اسی وقت سے قصیدہ ء بردہ شریف عاشقان ِ رسول ِ مقبول کاورد وظیفہ بناہواہے۔ بہت سی زبانوں میں اس کےتراجم ہوچکے ہیں ۔
خانوادہ ء چشت کی ادبی شخصیت اور قادر الکلام شاعر سید عارف معین بلے نے بھی اردو زبان میں اپنے فکری اورتخلیقی جوہر دکھائے ہیں اور قصیدہ ء بردہ شریف کے حوالے سے بڑا قابل ِ قدر کام کیاہے۔
انہوں نے "قصیدہ ء بردہ شریف اب اردو زبان میں” کاعنوان دے کر شہرہء آفاق قصیدہ ء بردہ شریف کامنظوم اردو ترجمہ بھی کیا ہے ۔ اوراس کےحواشی بھی منظوم لکھے ہیں ۔یہی نہیں سیدعارف معین بلے نے قصیدہ ء بردہ شریف کا منظوم قصیدہ بھی بڑا خوب لکھا ہے ۔
سیرت النبی کی کتابوں میں حضور علیہ الصلواۃ و والسلام کی کملی کا بڑا ذکر ملتا ہے لیکن اب سے پہلے کسی بھی شاعر نے نعتیں کملی کی بنیاد پر نہیں لکھیں ۔اتناضرور ہے کہ کہیں کہیں کسی شعر میں کملی شریف کا تذکرہ ضرور ملتاہے ۔
———-
یہ بھی پڑھیں : دل آپ کی خوشبو سے ہے آباد نبی جی
———-
سید عارف معین بلے نے کملی شریف کو بطور ِ خاص اپنی نعتوں کا موضوع بھی بنایا ہے اور یہ تخلیقی کام بھی انہوں نے قصیدہء بردہ شریف کی زمین میں کیا ہے ۔ان کی ایک نعت کا عنوان ہے "آپ کی کملی کے کیا کہنے رسول محترم "۔اس نعت کو بھی اردوے معلیٰ کے قارئین ِ کرام کی نذر ضرور کیاجائے گا ۔
فی الحال سراپائے رسول ِ مقبولکے حوالے سے سیدعارف معین بلے کی خوبصورت نعت آپ کی نذر کی جارہی ہے ۔یہ بھی قصیدہء بردہ شریف کی زمین میں ہے ۔ جس میں نورِ ازل اور پیکر ِحسنِ مکمل حضور نبی ء رحمت کے سراپائے مبارک کی لفظی تصویر کشی کی گئی ہے ۔
محسن کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ اور محسن نقوی شہید کے بعد سراپائے رسول کریم کے حوالے سے سیدعارف معین بلے کی اس کاوش کو قابل ِ قدر ادبی کارنامے کےسوا کوئی اورنام نہیں دیاجاسکتا۔
اس نعت میں شاعر کی محبت ، عقیدت اور حضور نبی کریم سے نسبت بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔قصیدہء بردہ شریف کی زمین میں لکھی گئی اس ایمان افروز نعت کاعنوان ہے ” مرحبا، حُسن ِ سراپائے رسول ِ محترم "۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں سید عارف معین بلے نے شعری پیرائے میں نبی ء رحمت صلی اللہ علیہ ّ آلہ وسلم کے خدو خال کی بڑی دلکش اوردِلوں کوچھولینے والی تصویر کشی کی ہے۔
آپ بھی پڑھئے اور سردھنئے ۔ہمیں یقین ہے کہ اسے پڑھ کرآپ کے دل میں نبیء رحمت کی محبت جاگ اٹھے گی اور بےساختہ آپ کی زبان سے سبحان اللہ ۔سبحان اللہ کےالفاظ اداہوں گے۔

 

مولا یا صلِ و سلم ہے زباں پر دَم بہ دَم

دیدنی حُسنِ سراپائے رسولِ محترم

 

سب رسولوں کے محاسن آپ کو بخشے گئے

تھے سبھی اوصاف نبیوں کے مِرے مولا میں ضَم

 

حضرتِ آدم کی بے شک تھی جلالت آپ میں

معرفت تھی شیث کی ، موسیٰ کا تھا جاہ و حشم

 

نوح سے بڑھ کر جواں مردی تھی مولا آپ میں

دوستی بوالانبیاء کی بھی تھی بادرجہ اَتَم

 

پاک دامانی تھی یحیٰی کی ، رضا اسحاق کی

لوط کی حکمت کے حامل تھے نبیء مختتم

 

دیکھی صالح کی فصاحت بھی جہاں نے آپ میں

آپ اُمی ہو کے افصح العرب تھے، والقلم

 

لحنِ داءودی عطا فرمایا رب نے آپ کو

یہ بتاتے تھے ہمیں آواز کے سب زیر و بَم

 

اُمِ معبد نے جمالِ مصطفیٰ کو دیکھ کر

کھینچ کر رکھ دی تھی تصویرِ رسولِ محترم

 

آپ میں ایثار اسماعیل کا دیکھا گیا

کر دیا تھا رب نے ان میں حُسنِ یوسف کو بھی ضَم

 

آپ سا کوئی نہیں ہے پوری دُنیا میں حسیں

ملکوں ملکوں ڈھونڈ لو ، ملکِ عرب ، ارضِ عجم

 

دیدنی ہیں مرحبا سارے شمائل آپ کے

آپ ہیں شہکار قدرت کا رسولِ محترم

 

آ گئے ہیں کالی کملی اوڑھ کر سرکار کیا ؟

سامنے پردے میں ہے لِپٹا ہوا بیت الحرم

 

نبیوں نے آ کر دکھائی تھی جھلک سرکار کی

آپ کے بارے میں بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں ہم

 

آنکھ بھر کر دیکھنے کی تاب لا سکتے نہ تھے

کیا کہیں کیسا تھا ؟ مولا آپ کا جاہ و حشم

 

روئے انور دیکھ کر رکھ لیتے تھے آنکھوں پہ ہاتھ

ڈر تھا یہ حَسَّان کو بینائی ہو جائے نہ کم

 

دستِ قدرت نے اجالوں میں شفق کو گھول کر

رنگ کو بھی روپ کا سامان پہنچایا بہم

 

مرحبا صلِ علیٰ مولا شمائل آپ کے

ہو نہیں سکتے بیاں ، لکھے گا کیا؟ اپنا قلم

 

اللہ اللہ والضحیٰ ، واللیل ، مازاغ البصر

آپ کا قرآن میں حسنِ سراپا ہے رقم

 

حُسن کی معراج ہے مولا سراپا آپ کا

دستِ قدرت کا حَسیں شہکار از سر تا قَدَم

 

مرحبا تھی خوب مردانہ وجاہت آپ کی

دیکھ کر دل تھام لیتے تھے سبھی عالی ہَمَم

 

چودھویں کا چاند بھی نکلے تو پڑ جاتا تھا ماند

والضحی ٰکہتے تھے اصحابِ نبیِٔ محتشم

 

پھوٹتی تھیں روئے روشن سے بھی کرنیں نور کی

آپ کا نورانی چہرہ تھا رسولِ محترم

 

آئینہ سچائی کا بے شک تھا چہرہ آپ کا

والضحیٰ صلِ علیٰ ، بدرالدجیٰ ، شمس الظلَم

 

روئے روشن آپ کا بے شک کھلا قرآن تھا

آپ کے اصحاب کہتے تھے نبیء مختتم

 

جیسے چاندی میں کسی نے گھول رکھے ہوں گلاب

اللہ اللہ رنگتِ جسمِ رسولِ محتشم

 

دستِ قدرت نے کیا سینہ کشادہ آپ کا

آپ کی پشتِ مبارک کا کیا ہے بوجھ کم

 

سُرمگیں آنکھیں ،سیہ زلفیں تھیں مولا آپ کی

پیکرِ حُسنِ مکمل تھے رسولِ ذی حَشَم

 

تھیں بھنویں پَتلی مِرے مولا کی، تو پلکیں دراز

سُرخ ڈورے آپ کی آنکھوں میں تھے شاہِ اُمَم

 

اَبروؤں کے درمیاں رَگ تھی جبینِ پاک پر

جو ابھر آتی تھی غصے میں ہمیشہ ایک دَم

 

چوڑی پیشانی ، کشادہ سینہ ، اونچی ناک تھی

رشکِ یوسف تھے یقیناً پیکرِ حُسنِ اَتم

 

تھی جبیں ایسی کہ جیسے ہو کوئی روشن چراغ

اس کے آگے روشنی سورج کی پڑ جاتی تھی کم

 

یہ بتاتی ہے جبیں اس پر شکن اُبھری نہیں

خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے سرکارِ اُمم

 

لب کُشا ہوتے رسولِ پاک تو جھڑتے تھے پھول

خوبصورت تھا تبسم آشنا ، مولا کا فَم

 

دانتوں کی ریخوں سے کرنیں پھوٹتی تھیں نور کی

مسکراُٹھتے تھے جب سرکارِ اکرم الاُمم

 

دستِ قدرت نے سجا رکھے تھے موتی سیپ میں

آپ کے دنداں تھے مولا پرتوِ حُسنِ اَتم

 

کس سے دوں تشبیہہ مولا آپ کی مسکان کو

مسکراہٹ اَدھ کھلی کلیوں میں بھی ہوتی ہے کم

 

سچے موتی جڑ دئیے ہوں جیسے اِک ترتیب سے

دیدنی تھا حُسن دندانِ رسولِ ذی حَشَم

 

لب تھے یاقوتی مگر یاقوت سے بڑھ کر حَسیں

تھی چمک دنداں میں ایسی، موتیوں میں ہو گی کم

 

دل کشی گوشِ مبارک کی ، لبوں کی نازکی

دیکھ کر پڑھتے درودِ پاک اصحابِ کرم

 

ہے سماعت کے حوالے سے یہ فرمانِ رسول

آپ سُن سکتے نہیں جو کچھ ، وہ سُن سکتے ہیں ہم

 

آسماں پر بھی کوئی آہٹ ہو سُن سکتے ہیں آپ

یہ بھی قوت آپ کو پہنچائی ہے رَب نے بہم

 

گوشِ اقدس کی لووں کو چومتی زلفیں حضور

چاند کے مکھڑے پہ ہے سایہ فگن ابرِ کرم

 

غیر پیوستہ کمانیں آپ کے ابرو کی ہیں

ریشمی زلفیں مِرے مولا کی ہیں پُر پیچ و خم

 

مولا، گھنگھریالی زلفوں کا زمانہ ہے اسیر

اِس اسیری پر ہے دُنیا خوش رسولِ محترم

 

خوبصورت نسبتاً پتلی تھی گردن آپ کی

سچ ہے یہ ، اِس کو صُراحی دار کہنا ہوگا کم

 

جیسے چاندی کی صُراحی سونے سے لبریز ہو

کیا حسیں گردن ہے جس میں ہو گئے دو رنگ ضَم

 

سر بڑا سردار کا تھا ، بیچ میں اِک مانگ تھی

پیکرِ حُسنِ مکمل تھے نبیء مختتم

 

ہو گئی بے شک ملاحت ختم مولا آپ پر

دوسرا کوئی نہیں، ایسا کہاں سے لائیں ہم

 

کون واقف ہے حقیقت سے مِری، رب کے سِوا؟

یہ بھی فرمانِ رسولِ پاک ہے رَب کی قَسَم

 

عرش بھی سارا پگھل جاتا تجلیات سے

یوں ہوا بے شک ظہورِ نورِ کامل کم سے کم

 

ساری مخلوقات ہو جاتیں فنا کہتے ہیں لوگ

ظاہر ہو جاتے جو انوارِ رسولِ محتشم

 

قامتِ زیبا میانہ تھا رسول اللہ کا

سب میں آتے تھے نظر ممتاز سرکارِ اُمَم

 

جسمِ اطہر پر کوئی دھبہ نہ کوئی داغ تھا

حُسن کا پیکر تھے مولا آپ سر تا بہ قدم

 

آپ دُبلے تھے نہ موٹے ، جسم پر مضبوط تھا

آپ کا نکلا ہوا باہر نہ تھا مولا شِکَم

 

شخصیت میں رکھ رکھاؤ تھا، بڑا ٹھہراؤ تھا

معترف تھے اس کے اصحابِ رسولِ ذی حشم

 

ناف تک سینے سے تھی بالوں کی ہلکی سی لکیر

پاک تھا بالوں سے ورنہ پورا جسمِ محترم

 

سینہ ہی کیا ؟ جوڑ بھی تو تھے کشادہ آپ کے

آپ کے شانوں پہ تھا اللہ کا دستِ کرم

 

آپ کے دستِ مبارک کی تھیں لمبی انگلیاں

تلوے قدرے گہرے تھے ، ہموار تھے لیکن قَدَم

 

سچ اگر پوچھو کفِ دستِ رسالت تھے گداز

آپ قدرت کا حسیں شہکار تھے ، رب کی قسم

 

رنگ تھا مائل بہ سُرخی ، تھی کلائی بھی دراز

آپ کے انگ انگ میں رعنائیاں مولا تھیں ضَم

 

ہاتھ جو کوئی ملاتا ، مانتا تھا یہ حضور

ہے ملائم آپ کاریشم سے بھی دستِ کرم

 

آپ قاسم ہی نہیں، مولا ابوالقاسم ہیں آپ

آپ کے دستِ مبارک میں ہے تقدیرِ اُمم

 

آپ کی مٹھی میں ہیں دونوں جہاں کی نعمتیں

آپ کے در کے گدا مختار و سلطان و خَدَم

 

چلتے تو نعلین کی آواز بھی آتی نہ تھی

تھے بڑے نرم و ملائم آپ کے مولا قدم

 

حُسن یوسف میں صباحت ہے ، ملاحت آپ میں

دونوں رعنائی میں یکتا ہیں ، نہیں ہے کوئی کم

 

ہے شمائل کا یقیناً تذکرہ وجد آفریں

آفریں ، صد آفریں ، یا سیدِ خیرالامم

 

جیسے بہتا ہے کوئی دریا کسی ڈھلوان پر

جھک کے چلتے تھے مگر تیزی سے اٹھتے تھے قدم

 

بولتی تھی میرے مولا خامشی بھی آپ کی

دھیما لہجہ بھی اُتر جاتا تھا دل میں، ایک دَم

 

بولتے تو کانوں میں رس گھول دیتے تھے حضور

دل نشیں طرزِ تکلم تھا ، حلاوت کی قسم

 

حق بیاں گوہر فشاں بے شک زباں تھی آپ کی

ترجمانِ ایزدی ہی اس کو کہہ سکتے ہیں ہم

 

تھا لب و لہجہ حسیں، آواز میں تھا دبدبہ

لحنِ داودی یقیناً ہو گیا تھا اس میں ضم

 

اہلِ مجلس غور سےسنتے تھے اِک اِک لفظ کو

رَس بھری آواز میں بھی تھا بڑا جاہ و حَشَم

 

سچ تو یہ ہے آپ کی آواز دلآویز تھی

چاشنی تھی اس میں ایسی ،شہد میں بھی ہوگی کم

 

گونج دیتی تھی سنائی اس کی بے شک دور تک

نغمگی تھی ، صوت کی رعنائیاں تھیں اس میں ضَم

 

کیا نظر تھی یہ پتا چلتا ہے اس فرمان سے

تم نہیں جو دیکھ سکتے ، دیکھ سکتے ہیں وہ ہم

 

عرش سے تحتُ الثریٰ تک دیکھ سکتے تھے حضور

مرحبا ، صلِ علیٰ ، نگہہِ رسولِ محترم

 

پُشت کے پیچھے ہے کیا؟ یہ دیکھ سکتے تھے حضور

آپ سے مخفی نہیں تھا ،کچھ نبیِٔ مختتم

 

آنکھ بھر کر دیکھتے کم تھے، حیا آنکھوں میں تھی

نظریں نیچی رکھتے تھے اکثر رسولِ محترم

 

تھی گھنی ریشِ مبارک سرورِ کونین کی

چہرے کی زینت تھی یہ نورِ محمد کی قسم

 

دونوں جانب سے برابر آپ رکھتے تھے اِسے

آبرو کا یہ نشاں تھی ، سیدِ والا حَشَم

 

جسمِ اطہر آپ کا آلائشوں سے پاک تھا

تھا نظافت میں بھی یکتا پیکرِ حُسنِ اَتم

 

جس طرف جاتے مِرے مولا مہک جاتی فضا

اللہ اللہ خوشبوئے جسمِ رسولِ ذی حَشَم

 

خوشبووں کا اِک خزینہ تھا پسینہ آپ کا

ہیچ تھا ہر عطر ، کستوری تھی مولا اِس سے کم

 

یہ بھی ہے برکت لعابِ سید ِ لولاک کی

ہو گیا کھارے کنویں کا پانی میٹھا ایک دَم

 

ہے علاج آشوبِ چشمانِ علی کا بھی لعاب

ہے مداوا دُکھ کا راحت بخش ہے اکسیرِ غم

 

سچ اگر پوچھو تو اِک مہرِ نبوت ثبت تھی

لوگ کہتے ہیں کہ تھا پُشتِ مبارک پر پَدَم

 

نُطق بے شک آپ کا نطقِ الہیٰ ہے حضور

رَب کا ہے فرمان، فرمانِ نبیء مختتم

 

لا نہیں سکتی تھیں نظریں آپ کے جلووں کی تاب

ہو بیاں کیسے ؟ جمالِ سیدِ خیرالاُمم

 

مرحبا صلِ علیٰ مولا شمائل آپ کے

مرحبا حسنِ سراپائے رسولِ محترم

 

یہ بھی سچ ہے جسمِ اطہر کا کوئی سایہ نہ تھا

آپ کے ہے زیر سایہ ، یہ جہاں ، رب کی قسم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ