حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد

حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد

مصطفٰی کے سامنے سارے کے سارے مسترد

 

کیا مثالِ محفلِ سرکارؐ ہو ، اصحاب ہوں

پھر چمکتا چاند ہو یا ہوں ستارے، مسترد

 

گنبدِ خضرٰی کے جلوے اللہ اللہ ہیں کمال

زیست کے باقی ہوئے سارے نظارے مسترد

 

وقتِ محشر نعت کے الفاظ تولے جائیں گے

اور باقی شعر سارے اور شمارے مسترد

 

زیست کی کشتی بھنور میں ہے کرم ہو جائے اب

ہیں بجز دریائے رحمت، سب کنارے مسترد

 

اے عطا شاعر ہے تُو پر یاد رکھ سارے کلام

جو بجز نعتِ نبیؐ ہیں وہ تمہارے مسترد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے
وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے
میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں
ہر گھڑی اک یہی ہے لگن یا نبی
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
کوئے رشکِ ارم کا ارادہ کروں
یقیں میں ڈھلتا نہیں ممکنات کا پرتَو
آنکھ کو چھُو کے پسِ حدِ گماں جاتی ہے
ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے
اٹھانا ہے جو برکت زندگی بھر

اشتہارات