اردوئے معلیٰ

حیات بیکار ہے یقینا
جو اُن کی الفت نہیں رچی ہے
شعور بے اصل ہے سراپا
اگر نہیں دیں کی آگہی ہے
اگر نہ ہو پیروی مکمل
عمل کی بنیاد کھوکھلی ہے
جو صرف آفاق ہی میں گم ہو
اسے بصیرت نہیں ملی ہے
حیات کیا ہے عزیزؔ احسن
حیات بس اُن کی پیروی ہے
پہنچ کے آقا کے در پہ ہم پر
کھلا کہ کیا اصل روشنی ہے
نبیؑ ہزاروں ہوئے ہیں لیکن
حضور کی شان ہی بڑی ہے
خرد جسے نورِ علم جانے
اسی کے باطن میں تیرگی ہے
مگر جسے عشق، نور سمجھے
وہ نور، عرفان و آگہی ہے

عشق اور نورِ عرفاں!:جمعرات: ۱۸؍شوال ۱۴۳۳ھ …مطابق: ۶؍ستمبر ۲۰۱۲ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات