حیات بیکار ہے یقینا

حیات بیکار ہے یقینا
جو اُن کی الفت نہیں رچی ہے
شعور بے اصل ہے سراپا
اگر نہیں دیں کی آگہی ہے
اگر نہ ہو پیروی مکمل
عمل کی بنیاد کھوکھلی ہے
جو صرف آفاق ہی میں گم ہو
اسے بصیرت نہیں ملی ہے
حیات کیا ہے عزیزؔ احسن
حیات بس اُن کی پیروی ہے
پہنچ کے آقا کے در پہ ہم پر
کھلا کہ کیا اصل روشنی ہے
نبیؑ ہزاروں ہوئے ہیں لیکن
حضور کی شان ہی بڑی ہے
خرد جسے نورِ علم جانے
اسی کے باطن میں تیرگی ہے
مگر جسے عشق، نور سمجھے
وہ نور، عرفان و آگہی ہے

عشق اور نورِ عرفاں!:جمعرات: ۱۸؍شوال ۱۴۳۳ھ …مطابق: ۶؍ستمبر ۲۰۱۲ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فکر جب دی ہے مجھے اس میں اثر بھی دیدے
خاکم بدہن کچھ ہیں سوالات بھی سر میں
آقا جو نہیں تھے تو امانت بھی نہیں تھی
دشت ہے کل جہاں سائباں آپ ہیں
سلسبیلِ نور
قرآن ہے کتاب، عمل اُسوۂ نبی
رَب کا منشا تھا حضور آپ کا ظاہر ہونا
قریہ قریہ نعت مسلسل پھیلے گی
کہتے ہو تم کہ تم کو یقیں دین پر بھی ہے
یارَبّ میں صبح و شام حرم دیکھتا رہوں

اشتہارات