حیف اتنا تو دمِ رخصت کیا ہوتا خیال

حیف اتنا تو دمِ رخصت کیا ہوتا خیال

کون اس صحرا میں اس بیکس کا ہو گا غمگسار

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چُپ رھیں ؟ آہ بھریں ؟ چیخ اُٹھیں ؟ یا مرجائیں ؟
مجھے عشق تھا' مجھے چاہ تھی' مجھے پیار تھا، مگر اب نہیں
تمام حالِ دلِ زار تُو تو جانتا ہے
ذرا سی دیر میں آنے کا کہہ گیا تھا کوئی
ہوا یقیں کہ زمیں پر ہے آج چاند گہن
میں اس کی قید سے آزاد کہاں ہوں
کیوں تمہیں کہتے نہیں جاؤ مناؤ بھی اسے
جس وچ اک اک ساہ لگ جاوے
تمام ہو گئے ہم پہلی ہی نگاہ میں حیف
فضا اداس ہے رت مضمحل ہے میں چپ ہوں

اشتہارات