خادم رزمی کا یوم وفات

آج معروف شاعر خادم رزمی صاحب کا یوم وفات ہے۔

خادم رزمی(پیدائش: 2 فروری، 1932ء- وفات: 2 جنوری، 2006ء)
———-
خادم رزمی کا اصل نام خادم حسین تھا ۔ وہ کبیر والا کے ایک چھوٹے سے گاؤں محمود والا میں 2 فروری 1932ء کو پیدا ہوئے ۔ خادم رزمی ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر کبیر والا کے مختلف قصبات میں تعینات رہے۔
1991ء میں گورنمنٹ ماڈل مڈل اسکول دارالعلوم کبیر والا میں ریٹائر ہوئے ۔
مولوی فضل دین اور لالہ رام لعل سرگباشی جیسے اساتذہ کی رہنمائی سے خادم رزمی کا شعری ذوق پروان چڑھا۔
ملازمت کا زیادہ تر عرصہ تاریخی شہر تلمبہ میں گذرا ۔ جہاں کی اساطیری فضا نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
تلمبہ جیسے قدیم تاریخی حیثیت والے شہر میں بزمِ ادب تلمبہ کے زیرِاہتمام ایک ماہانہ مشاعرہ ہوتا تھا ، جس میں خادم رزمی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے ۔اس کے علاوہ غنضنفر روہتکی ، صادق سرحدی ، جعفر علی خان ، اسلام صابر دہلوی ، دلگیر جالندھری ، ڈاکٹر مہر عبدالحق ، کیفی جامپوری ، وفا حجازی ، اسماعیل نور ، بیدل حیدری ، ساغر مشہدی ، عاصی کرنالی ، جعفر طاہر ، شیر افضل جعفری اور ضیغم شمیروی جیسے شعرا کی صحبت میسر آئی ، جنہوں نے ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی ۔
ان کا اردو شعری مجموعہ "زرِخواب ” یکم فروری 1991ء اور پنجابی شاعری مجموعہ "من ورتی” 1994ء میں شائع ہوا ۔ ان کی وفات کے بعد ایک اور پنجابی شاعری مجموعہ ” اساں آپے اُڈن ہارے ہو ” کے نام سے چھپا ۔ ان کا کافی غیر مطبوعہ کلام ہے جس میں آشوبِ سفر اور جزائے نعت شامل ہیں طباعت کے مراحل میں ہے ۔
خادم رزمی کا زیادہ تر کلام اوراق ، فنون ، سیپ ، الکلام اور ادب لطیف میں شائع ہوتا رھا ہے ۔ انہیں اکادمی ادبیات کی طرف سے پنجابی شعری مجموعہ "من ورتی” پر ” وارث شاہ ھجرہ ایوارڈ 1994ء اور خواجہ فرید ایوارڈ 1998ء بھی مل چکا ہے ۔
خادم رزمی کا شمار ان باکمال شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی ریاضتِ فن اور پختگی فکر کا لوہا ہر مکتب فکر سے منوایا ۔ انہوں نے جب شاعری کا آغاز کیا ان کے سامنے غزل کی ایک طویل روایت موجود تھی ۔ وہ اپنے ہم عصر شعراء سے متاثر تو ضرور ہوئے لیکن اپنی آواز بھی قائم رکھی ۔ اور اپنے خلوص ، صداقت کی بدولت کامیاب ہوئے ۔
———-
یہ بھی پڑھیں : عطا ہو مجھ کو خدایا مِرے حضور کی نعت
———-
خادم رزمی 2 جنوری 2006ء کو وفات پا گئے۔
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 2008ء میں ڈاکٹر ممتاز کلیانی کی زیرِ نگرانی امتیاز احمد نے "خادم رزمی ۔ بحیثیت شاعر ” ایم۔اے کے لیے مقالہ لکھا ۔ 2006ء
میں قلندر عباس نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈاکٹر روبینہ ترین کی زیرِنگرانی "خادم رزمی ۔ شخصیت و فن ” کے نام سے ایم۔فل کیلئے مقالہ لکھا۔
———-
بشکریہ وکی پیڈیا
———-
خادم حسین رزمی: چھوٹے شہر کا بڑا شاعر
———-
ان کی ملازمت کا زیادہ تر عرصہ تاریخی شہر تلمبہ میں گذرا جہاں کی اساطیری فضا نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
———-
نہ جانے کتنی جبینوں کی ضُو سلگتی ہے
دھواں نکلتا ہے چمنی سے کارخانے کی
———-
خادم حسین رزمی کو ضلع خانیوال کے ان شعراء کرام میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ جنہوں نے اس علاقہ کی ادبی و ثقافتی فضاء کو اپنی شاعری سے معطر رکھا
۔ان کا شمار پنجابی اور اردو کے ان باکمال شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی ریاضتِ فن اور پختگی فکر کا لوہا ہر مکتب فکر سے منوایا۔
خادم رزمی نے جس سماج میں آنکھ کھولی تھی طبقاتی طور پر مخلتف درجوں میں بٹا ہوا تھا اور اس طبقاتی کشمکش میں معاشی استحصال کی صورت میں کسانوں پر جاگیرداروں کے مظالم کا سلسلہ بھی جاری تھا
۔خادمی رزمی ‘زرِ خواب’ کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ شاعری میرے لیے شوق ہے نہ وقت گزاری کا ذریعہ بلکہ یہ میرے لیے اس مراقبے سے کشف کا اظہار ہے جو میں نے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک کچے گھر کے آنگن سے شروع کیا جہاں میں نے آنکھ کھولی اور اپنی سلگتی بلکتی جوانی کے دن گزارے
۔خادم حسین رزمی کبیروالا کے گاؤں محمود والا میں دو فروری 1932ء کو پیدا ہوئے اور ایک پرائمری سکول ٹیچر کے طور پر کبیروالا کے مختلف قصبات میں تعینات رہے۔ان کا شعری ذوق مولوی فضل دین اور لالہ رام لعل سرگباشی جیسے اساتذہ کی رہنمائی میں پروان چڑھا۔ان کی ملازمت کا زیادہ تر عرصہ تاریخی شہر تلمبہ میں گذرا جہاں کی اساطیری فضا نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
خادم رزمی کی غزلیں عصر حاضر کے شعری اسلوب سے قدم ملا کر چلنے کی تاب رکھتی ہیں اور ان کی شاعری فنی پختگی اور منفرد اسلوب کا منہ بولتا ثبوت ہے
۔”قلندر عباس”خادم رزمی مرحوم کو غضنفر روہتکی، صادق سرحدی، جعفر علی خان، اسلام صابر دہلوی، دلگیر جالندھری، ڈاکٹر مہر عبدالحق، کیفی جامپوری، وفا حجازی، اسماعیل نور، بیدل حیدری، ساغر مشہدی، عاصی کرنالی، جعفر طاہر، شیر افضل جعفری اور ضیغم شمیروی جیسے شعراء کی صحبت میسر آئی جنہوں نے ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ان کا اردو شعری مجموعہ "زرِخواب "یکم فروری 1991ء اور پنجابی شاعری مجموعہ "من ورتی” 1994ء میں شائع ہوا۔
ان کی وفات کے بعد ایک اور پنجابی شاعری مجموعہ "اساں آپے اڈن ہارے ہو” کے نام سے چھپا۔ان کا کافی کلام جس میں "آشوبِ سفر” اور "جزائے نعت” شامل ہیں ابھی طباعت کے مراحل میں ہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : شمیم نعت سے جو حالِ دل وجدان جیسا تھا
———-
خادم رزمی کا زیادہ تر کلام اوراق، فنون، سیپ، الکلام اور ادب لطیف میں شائع ہوتا رہا
۔انہیں اکادمی ادبیات کی طرف سے پنجابی شعری مجموعہ "من ورتی” پر وارث شاہ ہجرہ ایوارڈ 1994ء اور خواجہ فرید ایوارڈ 1998ء بھی مل چکا ہے۔ملتان ٹی ہاؤس میں دیگر مشاہیر کی طرح خادم حسین رزمی کی شعری خدمات کے اعتراف میں تصویر بھی آویزاں بھی کی گئی۔بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 2008ء میں ڈاکٹر ممتاز کلیانی کی زیرِ نگرانی امتیاز احمد نے اپنا ایم۔اے کا مقالہ "خادم رزمی۔بحیثیت شاعر” کے عنوان سے لکھا
۔چار چفیرے انہی چُپ دا ڈیراگھور ہنیرے وچ ہک نگھا کچا کوٹھاکوٹھے اندر بلدے ہک ڈیوے دی کمبندی نِمی نِمی لو تے میںکمبندی لو نوں تکاں تے ایہہ سوچاںایہہ لو کیہہ اے؟ ایہہ میں کیہہ آں؟کوٹھے اندر کمبندا نماں نماں چانن کیہہ اے؟باہر نچدا گھپ ہنیرا کیہہ اے؟اچن چیتی لو بھڑکی تے مینوں سُجھیا گھپ ہنیراکچا کوٹھا بلدا ڈیوا، ایس دی کمبندی لو تے میںسبھ اک پل آں، بس اک پلسنہ 2006ء میں قلندر عباس نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈاکٹر روبینہ ترین کی زیرِ نگرانی "خادم رزمی۔شخصیت و فن” کے نام سے ایم۔فل کے لیے مقالہ لکھا۔
قلندر عباس کہتے ہیں کہ خادم رزمی کی غزلیں عصر حاضر کے شعری اسلوب سے قدم ملا کر چلنے کی تاب رکھتی ہیں اور خادم رزمی کی شاعری فنی پختگی اور منفرد اسلوب کا منہ بولتا ثبوت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کی شاعری کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا کہ وہ چھوٹے شہر کا بڑا شاعر ہے جس نے ساری عمر تہذیب و تمدن کے مراکز دور حسرت میں بسر کی ہے جسے ذرائع ابلاغ کی امداد میسر نہیں لیکن جدید غزل کے سفر میں کا کردار ایک کامیاب شاعر کا ہے۔
"وہ اپنے نظریہ سے زندگی اور مظلوم انسانی طبقہ سے سچی اور گہری محبت رکھتے ہیں ان کی شاعر میں سیاسی اور معاشرتی شعور کی مزاحمتی لہجہ میں واضح نظر آتی ہے۔”حلقہ ارباب ذوق کے سابق جنرل سیکرٹری غلام حسین ساجد کہتے ہیں خادم رزمی کا شمار جدید غزل کے نمائندہ شعراء کرام میں سے ہوتا ہے۔
خادم رزمی معاشرہ کے پسے ہوئے طبقہ کے نمائندگی کرتے تھے، بالحاظ شخصیت خوش مزاج اور زندگی کی مثبت قدروں کی ترویج کرنے والے تھے۔وہ کہتے ہیں پہلی بار جب میں نے ان کا یہ شعر پڑھا
———-
کس نے لہرائی دریچے سے بدن کی چاندنی
کون تھا میلی گلی کو جس نے اجلا کر دیا
———-
تو میں حیران رہ گیا کیونکہ میں نے جس ماحول میں پرورش پائی تھی اس قدر خوبصورت شعر کا تخلیق کار پہلے نظر نہیں آیا تھا۔”میری ان سے ملاقات 1973ء میں ملاقات کی تو ہم ایک دوسرے کے دست و بازو بن گئے ان کی شخصیت کا مجھ پہ یہ اثر ہوا کہ میں نے نثر لکھنے کے ساتھ ساتھ شاعری کے بارے بھی سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا۔”ان کی پہلی کتاب ‘زرِ خواب’ شائع ہوئی تو انہوں نے کتاب میرے نام کی یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا
۔ڈاکٹر عاصی کرنالی کہتے ہیں کہ خادم رزمی شعر و ادب کے حوالے سے ایک آفاقی شخصیت تھے جنہوں نے قریب قریب ہر صنفِ سخن میں اشعار کہے۔ان کا کہنا ہے کہ اِن کی شاعری میں وہ ہمہ گیری، معیار پسندی اور گہرا تاثر ہے جو ہمیشہ ہمارے اور آنے والی نسلوں کے دلوں کو فتح کرتا رہے گا۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر تاج سعید کا یوم پیدائش
———-
ہک دن ویلے کھوہ لینی اے تیتھوں زورو زوری
رنگ جوانی روپ بدن دا, چار دناں دی مایا
چن متھا مخموریاں اکھیں گورا ریشم پنڈا
جس نوں اپنا سمجھیں گوری سارا مال پرایا
———-
منتخب کلام
———-
عمریں گزر گئی ہیں اثر کی تلاش میں
کس نامراد لب کی دعا ہو گئے ہیں ہم
———-
کچھ اس لیے بھی وہ سیلاب بھیج دیتا ہے
کہ بستیوں میں رہو اور کھنڈر بھی ساتھ رکھو
———-
ہم کو جانا تھا کس طرف رزمیؔ!
اور کس سمت ہیں رواں ہم لوگ
———-
آن پہنچے ہیں یہ کہاں ہم لوگ
اب زمیں ہیں نہ آسماں ہم لوگ
کل یقیں بانٹتے تھے اوروں میں
اب ہیں خود سے بھی بد گماں ہم لوگ
کن ہواؤں کی زد میں آئے ہیں
ہو گئے ہیں دھواں دھواں ہم لوگ
چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ
کب میسر کوئی کنارہ ہو
کب سمیٹیں گے بادباں ہم لوگ
بن گئے راکھ اب نجانے کیوں
تھے کبھی شعلۂ تپاں ہم لوگ
ہم کو جانا تھا کس طرف رزمیؔ!
اور کس سمت ہیں رواں ہم لوگ
———-
خیال و خواب میں دیوار و در بھی ساتھ رکھو
مسافرت میں رہو اور گھر بھی ساتھ رکھو
عجب نہیں کہ شہادت طلب کرے منزل
کرو پڑاؤ تو گرد سفر بھی ساتھ رکھو
زر و گہر سے بھی بنتی ہیں قامتیں لیکن
کوئی سلیقۂ عرض ہنر بھی ساتھ رکھو
ہم ایسے لوگ پس گفتگو بھی جانتے ہیں
ہمیں ملو تو خلوص نظر بھی ساتھ رکھو
کچھ اس لیے بھی وہ سیلاب بھیج دیتا ہے
کہ بستیوں میں رہو اور کھنڈر بھی ساتھ رکھو
کڑی ہے دھوپ تو خوابوں میں ہی سہی رزمیؔ
ہری رتوں کے گھنیرے شجر بھی ساتھ رکھو
———-
چاندنی ، چوپال ، میرا گاؤں ، گبھرو قہقہے
آنگنوں میں موتئیے سے لوگ ، خوشبو قہقہے
دور تک پھیلے ھوئے سرسبز کھیتوں کا طلسم
سر پہ چڑھ کر بولتا محنت کا جادو ، قہقہے
سبز چارہ ، دھان گندم ، باجرہ ، گنا ، کپاس
یہ مری بستی کی فصلیں ھیں کہ ھر سو قہقہے
آبرو ھیں گاؤں کے پاکیزہ صبح و شام کی
محنتوں کی گود کے پروردہ ” باھو” قہقہے
بچپنے کی یاد کیا منظر دکھاتی ھے مجھے
شام، سونا رت ، کھلے چہرے ، لبِ جو ، قہقہے
شہر کی بے روح خوشیوں سے بھلے ھیں ھر کہیں
گاؤں کے بے لوث، بھولے بھالےسادھو قہقہے
سادگی ، اخلاص ، سچائی محبت ، یاریاں
میٹھے میٹھے اختلافاتِ من و تو قہقہے
پھول جسموں پر لئے سونا سحر کی اوڑھنی
چوکڑی بھرتے ھوئے کھیتوں میں آھو قہقہے
شہر میں آ کر بھی رزمی آج تک بھولے نہیں
گاؤں کی شادابیوں کے دست و بازو قہقہے
———-
آنکھ لگتے ھی صدا دے کے جگاتا کیوں ھے
وہ مرے خواب کی زنجیر ھلاتا کیوں ھے
جس کا رشتہ ھے کوئی اب نہ تعلق مجھ سے
وہ غزل بن کے مری سوچ میں آتا کیوں ھے
اب بھی تنہائی میں اک یاد کی صورت مجھ کو
میرے ھونے کا وہ احساس دلاتا کیوں ھے
اپنی پلکوں پر سجا کر وہ مرے ھجر کی لو
مجھ سے بیگانہ مری یاد مناتا کیوں ھے
وہ ھے پتھر تو مرے سر کی حفاظت کیسی
آئینہ ھے تو مرے زخم چھپاتا کیوں ھے
جس نے دیکھی نہ کوئی گردِ سفر بھی اب تک
داستاں اس کو مسافت کی سناتا کیوں ھے
راہ سورج کی بڑی دیر سے تکنے والے
آنکھ اب دھوپ کی شدت سے چراتا کیوں ھے
ھے کوئی بات پسِ ربط و تعلق ورنہ
شیشہ پتھر سے رہ و رسم بڑھاتا کیوں ھے
درد فہمی تجھے معلوم ھے جس کی رزمؔی
نِت اسے تازہ غزل اپنی سناتا کیوں ھے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ