خالقِ کائنات و جن و انس

خالقِ کائنات و جن و انس

وحدہٗ لاشریک تیری ذات

تو ہے نباض نبضِ عالم کا

تیرے قبضے میں سب کی موت و حیات

تو نے تخلیقِ کائنات کے بعد

نوعِ انساں کو سرفراز کیا

دے کے اس کو خلافتِ ارضی

اور پہنا کے سر پہ تاجِ شرف

لیکن اے مالک و رحیم و کریم

عصرِ حاضر کے یہ ترے بندے

تیرے انعام سے گریزاں ہیں

تیرے الطاف کے بھی منکر ہیں

کتنے مردود ہیں، رذیل ہیں یہ

پوجتے ہیں بس اپنی دولت کو

ان کا مقصد ہے نفس کی تسکیں

یعنی ذوقِ انا کی خوشنودی

اپنی تسکینِ ذوق کے خاطر

اپنے ہاتھوں سے ہی بشکلِ حسیں

لات و عزیٰ، ہبل تراشے ہیں

اور یہ کور چشم شام و سحر

ان کے آگے جبیں جھکاتے ہیں

ان کی مذموم حرکتوں کے سبب

آج ہر گام پر ہے رقص کناں

بربریت، تشدد و بدعت

جور و ظلم و ستم، دغا بازی

بغض، نفرت، ہوس کی فتنہ گری

خود سری، خویش پروری، چوری

اور پھر یہ بھی اک صداقت ہے

آج ہر گام پر رعونت ہے

ہے چلن عام بے حیائی کا

روحِ انسانیت تڑپتی ہے

ہیں بظاہر جو مصلح و رہبر

اور داعی ہے جو اخوت کے

ان کے سائے میں فتنے پلتے ہیں

صوفی و عالم و خطیب و امام

دین و مذہب کے سائے میں اکثر

تشنگیِ ہوس بجھاتے ہیں

میرے معبود، اے مرے مالک

ایسے ماحول میں مرا جینا

باعثِ صد ملال ہی ہوگا

اک مسلسل عذاب ہی ہوگا

اس لیے ہے یہ التجا مری

علمِ نافع سے تو مرے دل کو

کر دے معمور تاکہ شر سے میں

خود کو محفوظ رکھ سکوں ہر پل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ