اردوئے معلیٰ

خامہ و نُطق پہ ہے کیسی عنایت تیری

مجھ سے بے ساختہ، ہو جاتی ہے مدحت تیری

 

پورے احساس کی کھیتی میں وہ کھِلتا ہوا رنگ

جیسے تمثیل نے باندھی ہو عقیدت تیری

 

قریۂ جان ہوا مشک و عبیر و عنبر

شاید امکان میں در آئی ہے نکہت تیری

 

جسم تو جیسے کہ ہے عکسِ مضافاتِ حرم

دل کی دُنیا سے بھی اُونچی ہے حکومت تیری

 

جس حقیقت پہ ہے ادراک کی سرحد مبہوت

اُس حقیقت سے بھی آگے ہے حقیقت تیری

 

باقی ارکان ہیں، مندوب ہیں، مطلوب ہیں سب

جانِ ایمان ہے، بس ایک محبت تیری

 

عمر بھر جلتا رہا ہے یہ چراغِ مدحت

قبر میں ساتھ لئے جاؤں گا طلعت تیری

 

سوچ رکھا ہے نکیرین کی خدمت میں جواب

چار سطروں کی سنا ڈالوں گا مدحت تیری

 

شورشِ حشر میں مفقود ہُوا تھا مقصودؔ

ڈھونڈنے نکلی ہے خود اُس کو شفاعت تیری

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات