اردوئے معلیٰ

خامۂ حرف بار چُپ، لہجۂ گُل بہار چُپ

تیرے حضور جیسے ہیں سارے ہی طرحدار چُپ

 

جب کہ ہیں تیرے سامنے حرف و بیاں ہی دم بخود

قطعاً عجب نہیں کہ ہے مجھ سا قلم فگار چُپ

 

نکہت و نُور اس قدر بکھرے ہیں تیرے شہر میں

باغِ جناں کے پھُول بھی جیسے ہوں پیشِ خار چُپ

 

فیصلہ جب ہے تیرے ہاتھ یومِ شمارِ کار کا

پھر تو بجا ہے اے کریم سب ہیں گناہ گار چُپ

 

تیرے خیالِ شوق میں دیدہ و دل ہیں سر بہ خم

تیرے بیانِ حُسن میں مصر کے شہر یار چُپ

 

خامہ گہِ خیال پر تیری عطا کی بارشیں

نُطق گہِ وجود میں جذبۂ بے شمار چُپ

 

تیرے گدائے حرف کی اپنی ہے سلطنت عجب

کاسۂ عرضِ شوق میں سطوتِ نامدار چپ

 

کیسی کرم نواز تھی مکہ میں تیری واپسی

عفو و عطا تھے اوج پر، ظلم و جفا تھے خوار، چُپ

 

پورے بدن نے مان لی اب کے برس کی تشنگی

دل پہ مگر ہے اے سخی اپنا تو اختیار چُپ

 

آ کہ ترے خیال میں ساعتِ کوچ آ چکی

ہونے کو ہے ابھی ابھی دیدۂ انتظار چپ

 

جانا تھا جن کو جا چکے، دل کی مُراد پا چکے

بیٹھا ہوا یہ کون ہے بر سرِ رہگزار چپ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات