خاکِ کوئے جناب ہو جاؤں

خاکِ کوئے جناب ہو جاؤں

خار ہوں میں، گُلاب ہو جاؤں

 

اپنے قدموں میں آنے دو آقا

تا کہ میں کامیاب ہو جاؤں

 

کیا تو عاشق ہے شاہِ عالم کا

سر تا پا ’’ہاں‘‘ جواب ہو جاؤں

 

جو مدینے کی سیر کرتا ہو

ایسا پیارے! میں خواب ہو جاؤں

 

اُن کی اُلفت کا رنگ چڑھ جائے

کاش! فخرِ شباب ہو جاؤں

 

دِل کی حسرت رضاؔ یہ ہے میں بھی

خادمِ آنجناب ہو جاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ