خاکِ کوئے جناب ہو جائوں

خاکِ کوئے جناب ہو جاؤں

خار ہوں میں، گُلاب ہو جاؤں

 

اپنے قدموں میں آنے دو آقا

تا کہ میں کامیاب ہو جاؤں

 

کیا تو عاشق ہے شاہِ عالم کا

سر تا پا ’’ہاں‘‘ جواب ہو جاؤں

 

جو مدینے کی سیر کرتا ہو

ایسا پیارے! میں خواب ہو جاؤں

 

اُن کی اُلفت کا رنگ چڑھ جائے

کاش! فخرِ شباب ہو جاؤں

 

دِل کی حسرت رضاؔ یہ ہے میں بھی

خادمِ آنجناب ہو جاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپؐ سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں
ہے ہم کو آپ کے رب کا سہارا محترم آقا
دکھا دیجے عاصی کو شہرِ مدینہ
ماحول کی تلخیاں بھلا کر
بنامِ نورِ مجسم پیام لکھا ہے
گر ملے تو لوں میں بوسے خامہء حسان کے
آپ حامی ہیں تو منزل آشنا ہے جستجو
صدر بزم آشکارا و نہاں بنتا گیا
ہم اپنے دل کو ارادت شناس رکھتے ہیں
سنا کر نعت، ذوقِ نعت کی تکمیل کرتے ہیں