اردوئے معلیٰ

Search

خاک اُڑتی ہے رات بھر مُجھ میں

کون پھرتا ہے در بدر مُجھ میں

 

مُجھ کو خود میں جگہ نہیں مِلتی

تُو ہے موجود اِس قدر مُجھ میں

 

موسمِ گِریہ ! اِک گُذارش ہے

غم کے پکنے تلک ٹھہر مُجھ میں

 

بے گھری اب مرا مُقدر ہے

عشق نے کرلیا ہے گھر مُجھ میں

 

آپ کا دھیان خُون کے مانند

دوڑتا ہے اِدھر اُدھر مُجھ میں

 

حوصلہ ہو تو بات بن جائے

حوصلہ ہی نہیں مگر مُجھ میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ