خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں

خاک اُڑتی ہے رات بھر مُجھ میں

کون پھرتا ہے در بدر مُجھ میں

 

مُجھ کو خود میں جگہ نہیں مِلتی

تُو ہے موجود اِس قدر مُجھ میں

 

موسمِ گِریہ ! اِک گُذارش ہے

غم کے پکنے تلک ٹھہر مُجھ میں

 

بے گھری اب مرا مُقدر ہے

عشق نے کرلیا ہے گھر مُجھ میں

 

آپ کا دھیان خُون کے مانند

دوڑتا ہے اِدھر اُدھر مُجھ میں

 

حوصلہ ہو تو بات بن جائے

حوصلہ ہی نہیں مگر مُجھ میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اہلِ دل چشمِ گہربار سے پہچانے گئے
ہم ترا ذکرِ طرحدار لکھا کرتے تھے
مصالحت سے یہ قصہ نمٹ بھی سکتا ہے
دو قدم کا فاصلہ ہے بس شکستِ فاش میں
کوئی منتر کوئی تعویذ ؟ مرشد
نہیں جناب ، کسی اور کی امانت ہیں
اپنی قربت کے سب آثار بھی لیتے جانا
بے غرض کرتے رہو کام محبت والے
سب کی وحشت کو خلاؤں میں لگایا ہوا ہے
آتشِ رنج و الم، سیلِ بلا سامنے ہے