اردوئے معلیٰ

خاک تھا ، جزو ِ خاکداں ٹھہرا

خاک تھا ، جزوِ خاکداں ٹھہرا

میں بہر حال رائیگاں ٹھہرا

 

ہو گئے آر پار ہاتھ ترے

میں ترے واسطے دھواں ٹھہرا

 

درد میں کس طرح کمی ہو گی

عشق کم بخت جاوداں ٹھہرا

 

چیختا رہ گیا میں رستوں میں

وقت ٹھہرا ، نہ کارواں ٹھہرا

 

مضمحل ہو گئے قوی ، لیکن

جذبہِ جستجو جواں ٹھہرا

 

میں کنارے کی گھاس میں اُلجھا

وہ مگر موج تھا رواں ٹھہرا

 

میں سراپاء سخنوری ناصر

اور وہ قابلِ بیاں ٹھہرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ