خاک مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

خاک مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

ہوتی رہ مدینہ میرا غبار ہوتا

 

آقاؐ اگر کرم سے طیبہ مجھے بلاتے

روضے پر صدقے ہوتا ان پر نثار ہوتا

 

مرمٹ کے خوب لگتی مٹی میری ٹھکانے

گر ان کی رہ گزر پر میرا مزار ہوتا

 

یہ آرزو ہے دل کی ہوتا وہ سبز گنبد

اور میں غبار بن کر اس پر نثار ہوتا

 

طیبہ میں گر میسّر دو گز زمین ہوتی

ان کے قریب بستا دل کو قرار ہوتا

 

بے چین دل کو اب تک سمجھا بجھا کے رکھا

مگر اب تو اس سے آقاؐ نہیں انتظار ہوتا

 

وہ بے کسوں کے آقاؐ بے کس کو گر بلاتے

کیوں سب کی ٹھوکروں میں پڑ کر خوار ہوتا

 

سالک ہوئے ہم ان کے وہ بھی ہوئے ہمارے

دل مضطرب کو لیکن نہیں اعتبار ہوتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شرط ، الفت ہے ، عدیم ! آقا کی پائے خوشبو
شہرِ طیبہ کا ہے دیوانہ نہ جانے کب سے
اے از شعاع روئے تو خورشید تاباں را ضیا
بچائیں گے تری ہم آن گنبدِ خضرا
کیسے نہ مشکلوں میں وہ ثابت قدم رہے
بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے
حَبس بڑھنے لگا ' سانس گُھٹنے لگی ' یا نبیؐ ' یا نبیؐ
عطاۓ ربّ ہے جمال طیبہ
ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے​
وحشی کو انسان بنایا میرے کملی والے نے

اشتہارات