اردوئے معلیٰ

Search

خاک مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

ہوتی رہ مدینہ میرا غبار ہوتا

 

آقا اگر کرم سے طیبہ مجھے بلاتے

روضے پر صدقے ہوتا ان پر نثار ہوتا

 

مرمٹ کے خوب لگتی مٹی میری ٹھکانے

گر ان کی رہ گزر پر میرا مزار ہوتا

 

یہ آرزو ہے دل کی ہوتا وہ سبز گنبد

اور میں غبار بن کر اس پر نثار ہوتا

 

طیبہ میں گر میسّر دو گز زمین ہوتی

ان کے قریب بستا دل کو قرار ہوتا

 

بے چین دل کو اب تک سمجھا بجھا کے رکھا

مگر اب تو اس سے آقا نہیں انتظار ہوتا

 

وہ بے کسوں کے آقا بے کس کو گر بلاتے

کیوں سب کی ٹھوکروں میں پڑ کر خوار ہوتا

 

سالک ہوئے ہم ان کے وہ بھی ہوئے ہمارے

دل مضطرب کو لیکن نہیں اعتبار ہوتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ