خاک ہو جائے ترا شوق نمو کانپ اٹھے

خاک ہو جائے ترا شوق نمو کانپ اٹھے

ایک ہی وار پہ تو میرے عدو ! کانپ اٹھے

 

میری آنکھوں میں کئی خواب ہوئے قتل ، سو لوگ

دیکھ کر اشک کے بدلے میں لہو ، کانپ اٹھے

 

یہ بھی قسمت تھی رہی پیاس ادھوری صاحب

ہاتھ آتے ہی محبت کے سبو کانپ اٹھے

 

چوٹ ایسی تھی کہ لرزے تھے دروبام وجود

زخم ایسے تھے کہ سب دست رفو کانپ اٹھے

 

اس محبت کو مرے پیر کی زنجیر نہ جان

ایسی نفرت میں کروں تجھ سے کہ تو کانپ اٹھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ