خبر ہے کیا یہ بشر کو وہ نور جانتے ہیں

خبر ہے کیا یہ بشر کو وہ نور جانتے ہیں

ہمارے غَم کی حقیقت حضور جانتے ہیں

 

وہ لفظِ کُن کی حقیقت، نظامِ موت و حیات

ہوا ہے کیسے جہاں کا ظہور جانتے ہیں

 

کیوں آرزوئے کلیمی پہ ’’لن ترانی‘‘ تھی

کہ ریزہ، ریزہ ہوا تھا وہ طُور جانتے ہیں

 

عیاں ہے اُن پہ سبھی اَبرَہَہ کا قصّہ بھی

کہاں سے آئے کیوں آئے طیور، جانتے ہیں

 

نکال ڈالو اگر بیج سارے کھیتی سے

اُگانا پھر بھی وہ اعلیٰ کھجور جانتے ہیں

 

زَمن، زَمانوں کی باتیں تمام تر واللہ

حضور جانتے ہیں بس حضور جانتے ہیں

 

وہ مشکلوں میں بھی مشکل کشائی کرتے ہیں

مدد بھی کرنا جہاں کی وہ نور جانتے ہیں

 

دَرِ نبی پہ ادب کا خیال رکھنا رضاؔ

جو عِلم رکھتے ہیں وہ تو ضرور جانتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
تمہیؐ سرور تمہیؐ ہو برگزیدہ یارسول اللہؐ
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
جان ہیں آپؐ جانِ جہاں آپؐ ہیں
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں
گھڑی مڑی جی بھر آوندا اے ۔ پنجابی نعت