خداوندا! مرا دل شاد کر دے

خداوندا! مرا دل شاد کر دے

مصائب سے مجھے آزاد کر دے

 

مرے ویرانۂ قلبِ حزیں کو

تُو اپنی یاد سے آباد کر دے

 

رہائی تُو دلا بے بال و پر کو

کہیں صیاد نہ برباد کر دے

 

میں لاغر ہوں نحیف و ناتواں ہوں

خدایا تُو مری امداد کر دے

 

خدا سنتا ہے کرتا ہے مداوا

کوئی مجبور جب فریاد کر دے

 

خدا خود بات وہ کرتا ہے پوری

جو محبوبِ خدا ارشاد کر دے

 

مجھے محفوظ رکھ ہر شر سے مولا

ظفرؔ سے دور ہر افتاد کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں
ہر دم تری ہی یاد ہے تیری ہی جستجو

اشتہارات