خداوندا! نگہ، رحمت خدارا

خداوندا! نگہ، رحمت خدارا

عطا کُن عشقِ احمدؐ بے نوا را

 

خدا کی یاد میرے دلنشیں ہے

خدا کی یاد ہے دلکش دلآرا

 

خدایا وصل کی نعمت عطا کر

نہیں اب ہجر کی دوری گوارا

 

خدا کا ذکر، محبوبِ خداؐ کا

خدا نے میری نس نس میں اُتارا

 

وہی چارا گرِ بے چارگاں ہے

وہی حامی و ناصر ہے ہمارا

 

نحیفوں کو وہ گرنے سے بچائے

ضعیفوں کو وہ دیتا ہے سہارا

 

ظفرؔ نے اللہ ہُو کَہ کر پکارا

بھنور میں ہو گیا پیدا کنارا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
تجھی سے التجا ہے میرے اللہ
ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں
خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا
فرشتہ تو نہیں انسان ہوں میں
کرم فرما خدا کی ذاتِ باری
مُنور ہر زماں نور خدا سے
جلال کبریا کی مظہر و عکاس ہے ساری خدائی
نہیں ہے مہرباں کوئی خدا سا
خطائیں تو ہماری معاف فرما کہ تو ستّار بھی غفار بھی ہے

اشتہارات