خداوندِ شفیق و مہرباں تو

خداوندِ شفیق و مہرباں تو

خداوندِ ملائک اِنس و جاں تو

خداوندِ زمین و آسماں تو

خداوندِ مکان و لامکاں تو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب عظیم ہے تو
دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!
نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے
مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے
دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو
کرے انساں جو انساں سے بھلائی
خدا کے نُور سے روشن جہاں ہیں
عظیم المرتبت ربّ العلیٰ عظمت نشاں ہے
محبت ہو اگر بین الاُمم، ہو بین الاسلامی
خدا مشفق ہے مُونس مہرباں ہے