خدایا! نعت لکھنے کا شعور و آگہی دے دے

خدایا! نعت لکھنے کا شعور و آگہی دے دے

درِ محبوبؐ پر گزرے، مجھے وہ زندگی دے دے

 

مجھے جور و جفا کے مرمریں ایوان ڈستے ہیں

مجھے آقاؐ کے نقشِ پا، مدینہ کی گلی دے دے

 

میں حمد و نعت میں صبح و مسا مسرور رہتا ہوں

درُودوں سے مزیّن، مجھ کو ذوقِ بندگی دے دے

 

ترے محبوبؐ کا میں نعت گو، تیرا ثنا گو ہوں

خیالوں کو مرے تابندگی دے، دل کشی دے دے

 

وہ جن کا بوریا تختِ شہی تھا، اُن کے صدقے میں

قناعت کر عطا ہم کو، ہمیں پھر سادگی دے دے

 

ترے محبوبؐ کی اُمت ہوئی خوار و زبوں پھر سے

ہمیں پھر سر بلندی دے، ہمیں پھر سروری دے دے

 

ظفرؔ مانگو دعا یہ گڑ گڑا کر ربِّ اکبر سے

ہمیں محبوبؐ سے اپنے وہ پھر وابستگی دے دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
تخلیقِ کائنات کا آغاز آپؐ ہیں
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
شرح مزمل ہیں طہٰ آپ ہیں
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
وصف سرکار کے بیاں کیجئے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے
گھڑی مڑی جی بھر آوندا اے ۔ پنجابی نعت