اردوئے معلیٰ

خدایا ہے تو سب جہانوں کا مالک

زمینوں کا اور آسمانوں کا مالک

 

سزاوار تو ہی ہے حمد و ثنا کا

کہ مختار ہے تو ہی روزِ جزا کا

 

زمیں میں سے تو ہی یہ دانہ اگاتا

ہے برکھا کے پانی کو تو ہی گراتا

 

شجر بیل بُوٹے بنائے ہیں تو نے

گلستاں گلوں سے سجائے ہیں تو نے

 

اگرچہ کیا تو نے ہم سب کو پیدا

مگر راز تیرا نہیں ہے ہویدا

 

نشاں سب کا تجھ سے ہے تو بے نشاں ہے

تو ہر جا پہ حاضر ہے پر لامکاں ہے

 

دیا تیرا کھاتے ہیں سب ادنیٰ اعلیٰ

سبھی جپتے ہیں نام تیرے کی مالا

 

تو واحد ہے اس پہ ہے ایمان میرا

تو ہر حال میں ہے نگہبان میرا

 

اسی بات میں نورؔ کی ہے سعادت

کرے گر ہمیشہ وہ تیری عبادت

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات