اردوئے معلیٰ

خدا ایک ہے سب کا معبود ہے

وہ ہر جا ہے ، ہر شے میں موجود ہے

 

ہمیشہ سے ہے اور رہے گا سدا

سوا اُس کے کب ہے کسی کو بقا

 

کیا اُس نے پیدا جن و اِنس کو

کیا اُس نے پیدا ہر اک جنس کو

 

گلستان پھولوں سے مہکا دئیے

درختوں میں پھل خوب پیدا کیے

 

سجایا ستاروں سے کُل آسماں

مہ و مہر سے جگمگایا جہاں

 

اُسی نے ندی اور دریا بہائے

سمندر بھی گہرے اُسی نے بنائے

 

ہمیں پربتوں کے دیئے سلسلے

کہ سر جن کے ہیں آسماں سے ملے

 

نہیں اُس کی ساجھی کوئی اور ذات

ہے تنہا وہی خالقِ کائنات

 

وہ آقا ہے ساحلؔ سب اُس کے غلام

چلاتا ہے وہ عالموں کا نظام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات