خدا سا مہرباں تھا ہے نہ ہو گا

خدا سا مہرباں تھا ہے نہ ہو گا

سرورِ قلب و جاں تھا ہے نہ ہو گا

خدا سا محتشم، ارفع و اکبر

کوئی عظمت نشاں تھا ہے نہ ہو گا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں
سارے آسیب چھٹ چکے لیکن
مجسم نور، شاہِ مُرسلیںؐ ہے
آئے، اللہ کے حبیبؐ آئے
ذِکرِ سرکارؐ ہر زباں پر ہے
مرے محبوب، محبوبِ زماںؐ ہیں
خدا کا انتخابِ اوّلیں و آخریں آقاؐ
آپؐ نبیوں کے امام اور آپؐ کے ہم سب غلام
خاک پائے شفا، سنگِ در مانگنا
کرم بخشی خدائے مصطفیٰؐ کی