خدا سے دِل لگی جب تک نہ ہو گی

خدا سے دِل لگی جب تک نہ ہو گی

خدا سے آگہی تب تک نہ ہو گی

نہ مخلوقِ خدا راضی ہو جب تک

رسائی آپ کی رب تک نہ ہو گی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

لکھوں پہلے حمدِ علیِ عظیم
آئی صبا ہے کاکلِ گل کو سنوار کے
ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​
خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے
خدا کا ذکر، ذکرِ دل کشا ہے
ہے تو عظمت نشاں آقا و مولا
جو چڑیاں چہچہاتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی
خدا دل میں، خدا ہے جسم و جاں میں
نہیں ہے دل رُبا کوئی خدا سا
خدا کا ذکر جس دل میں سمائے