خدا سے روز ازل کس نے اختلاف کیا

خدا سے روز ازل کس نے اختلاف کیا

وہ آدمی تو نہ تھا جس نے انحراف کیا

 

ازل سے عالمِ موجود تک سفر کر کے

خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا

 

خدا گواہ ، کہ میں نے خود آگہی کے لئے

سمجھ کے خود کو حرم، عمر بھر طواف کیا

 

رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل

جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا

 

میں کیا بتاؤں کہ قلب و نظر پہ کیا گزری

کرن نے قطرۂ شبنم میں جب شگاف کیا

 

وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے

خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یوں تری یاد میں سلگتے ہیں
اندھیرے میں سیہ شب ہوں کسی شب مجھ میں بس بھی
یوں لگی مجھ کو خنک تاب سحر کی تنویر
جیسی ہے بدن میں گل رخ کے ویسی ہی نزاکت باتوں میں
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ھوگا ھی
اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں
تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں
ایسے ہیں یہ الگ الگ ، جیسے جُدا ہیں مَشرقین
کوئی میرے اشک پونچھے ، کوئی بہلائے مجھے

اشتہارات