اردوئے معلیٰ

خدا قلاّش کو بھی شان و شوکت بخش دیتا ہے

خدا قلاّش کو بھی شان و شوکت بخش دیتا ہے

وہی ذراتِ بے مایہ کو عظمت بخش دیتا ہے

 

وہ شہرت یافتہ کو پل میں کر دیتا ہے رسوا بھی

ذلیل و خوار کو چاہے تو عزت بخش دیتا ہے

 

کبھی دانشوروں پر تنگ کر دیتا ہے وہ روزی

کبھی جاہل کو بھی انعامِ دولت بخش دیتا ہے

 

وہ لے کر تاجِ شاہی کو کسی سرکش شہنشاہ سے

کسی کمزور کو دے کر حکومت بخش دیتا ہے

 

وہی بے چین رکھتا ہے امیرِ شہر کو شب بھر

یقیں کی سیج پر مفلس کو راحت بخش دیتا ہے

 

فضائے شر میں، کارِ خیر کو ملتی ہے یوں عزت

وہ جب نفرت کے بدلے دل کو چاہت بخش دیتا ہے

 

سمجھ لیتا ہے ساحلؔ جو بھی اس رازِ مشیت کو

وہ اُس انسان کو نورِ حقیقت بخش دیتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ